The news is by your side.

فیض آباد دھرنا کیس: راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کرنےپرعدالت برہم

اسلام آباد : فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کرنے عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی،چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی آئی بی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

عدالت نے راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کرنے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ پیش نہ کی تو توہین عدالت نوٹس جاری کریں گے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس کمیٹی کا ایک ممبر ملک سے باہر ہے جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ عدالت سے مذاق بند کریں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ سنا ہے وزارت دفاع والے اچھی انگلش بولتے ہیں، یہاں پرچار جملے لکھ کردینےکے لیے تیار نہیں ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت ایک ہفتے کا وقت دے، وزیرداخلہ ملک سے باہر ہیں، ایک ہفتے کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ کی غیر موجودگی میں رپورٹ نہیں دے سکتے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ بدقسمتی سے گزشتہ عدالتی حکم پرعمل درآمد نہیں کیا گیا۔

عدالت نے ڈی جی آئی بی کے رپورٹ جمع نہ کرانے پرسرزنش کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرسیکریٹری داخلہ اور ڈی جی آئی بی سے تحریری جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ایک ہفتے کی مہلت مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں