The news is by your side.

Advertisement

فیض آباد دھرنا کیس، خادم رضوی و دیگر ملزمان اشتہاری قرار

اسلام آباد : انسداد دہشت گردی کی عدالت نے  تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی و دیگر رہنماؤں کو مسلسل عدم حاضری پر اشتہاری قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جج شاہ ارجمند نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی، دورانِ سماعت استغاثہ کے وکیل نے  مؤقف اختیار کیا کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ اور چار ملزمان کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمات درج ہیں مگر بار بار طلبی کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہورہے۔

عدالت نے طلبی کے باوجود عدم حاضری پر تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی ، پیر افضل قادری، مولانا عنایت اللہ اور شیخ اظہر  کو  اشتہاری قرار دیا۔


مزید پڑھیں : فیض آباد دھرنا: خادم حسین رضوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری


یاد رہے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

گزشتہ سماعت پر پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمان کو مفرور قرار دیا جائے اور عدم حاضری کی صورت میں اشتہاری ٹھہرایا جائے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی پر گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دھرنا دیا گیا تھا جو تقریباً 22 روز بعد ختم ہوا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں