The news is by your side.

Advertisement

وقت ہوگیا ریڈیو کھولیے!

میں کرکٹ سے اس لیے بھاگتا ہوں کہ اس میں کھیلنا کم پڑتا ہے اور محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے۔ ساری محنت پر اس وقت پانی پھر جاتا ہے جب کھیلنے والی ایک ٹیم ہار جاتی ہے۔

ایمان کی بات ہے کہ ہم نے’’سائنس‘‘ کو ہمیشہ رشک کی نظروں سے دیکھا مگر کبھی اس مضمون سے دل نہ لگا سکے۔ ہمارا بیانِ صفائی سننے کے بعد میر صاحب جل کر بولے،

’’میاں تمہاری باتوں سے کاہلی کی بو آتی ہے اور تمہارا رجحان درونِ خانہ قسم کے کھیلوں کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ بتاؤ کہ بھلا کرکٹ کا سائنس سے کیا تعلق ہے۔ کیا بے سر کی بات کہہ دی تم نے؟‘‘

عرض کیا، ’’کرکٹ کبھی کھیل بھی رہا ہوگا مگر اب تو میر صاحب یہ باقاعدہ ایک سائنس ہے اور سائنس بھی ایسی جس میں ایجاد و تحقیق کرنا آسان مگر ٹیسٹ پلیئر بننا دشوار۔‘‘

’’خوب! خوب! عدم واقفیت کی بھی ایک حد ہوا کرتی ہے۔ کون سا ٹیسٹ پلیئر عالم فاضل ہے۔ دو چار کو تعلیم سے دور کا تعلق ضرور ہے مگر بس اس حد تک کہ اکثر ابتدائی درجوں میں پاس فیل کی پروا کیے بغیر امتحان میں شریک ہو جاتے ہیں۔ بھلا اس کا علم و فضل سے کیا تعلق؟‘‘

’’کرکٹ کے کھلاڑی کو اگر دیکھنا ہو تو درجے میں نہیں میدان میں دیکھیے۔‘‘

چمک کر بولے، ’’میں تو پہلے ہی کہتا تھا۔ بھلے آدمیوں کا کھیل ہے۔‘‘

کہا، ’’جی بالکل نہیں! انتہائی رئیسانہ کھیل ہے۔‘‘

’’مگر بھلے آدمی بھی تو رئیس کہلاتے ہیں۔‘‘

’’ایسی بھی کیا رئیسیت کہ چہرہ لہولہان ہو جائے۔ دانت شہید ہوجائیں۔ خیر دانت تو بعد میں ٹوٹیں گے پہلے تو مارے سردی کے بجنے لگیں گے۔ میر صاحب یہ ممکن نہیں کہ اس چلّے کے جاڑے میں اور کھلے میدان میں مجبوراً کھیلنے والے لحاف اوڑھ کر رن بنایا کریں۔‘‘

بولے، ’’کرکٹ کی گرمی لحاف کی تاب کہاں لا سکتی ہے، پھر اتنے موٹے دستانے پہننے، پیڈ چڑھانے اور گارڈ باندھنے کے بعد سردی کا کیا سوال؟‘‘

کہا، ’’شکریہ! سردی کا علاج تو آپ نے بتا کر خوف کچھ کم کر دیا لیکن اگر کھیلنے والوں کے پیروں کو نرم و نازک گیند کی سہولت بھی دی جائے تو فرسٹ ایڈ کی زحمت سے بے نیاز ہوکر باآسانی کرکٹ کھیلا جاسکتا ہے۔‘‘

مسکراتے ہوئے بولے، ’’آپ کے خیالات اسپورٹس مین اسپرٹ کے سخت خلاف ہیں ورنہ کھلاڑی تو اس کو کہتے ہیں جو چوٹ کھا کر مسکرائے اور جیتنے والے سے ہاتھ ملائے۔‘‘

’’خیر ٹھٹھرانے اور مرنے سے نہیں ڈرتا مگر کھیل کھیل میں جان جانے کے تصور سے ضرور ہاتھ پیر ٹھنڈے ہونے لگتے ہیں۔‘‘

میر صاحب بھلا میری باتوں میں کیا آتے۔ ہم نے بھی غنیمت جانا کہ یہ اس وقت محض کرکٹ کو کھیل منوا رہے ہیں۔ خیریت ہے کہ انہیں یہ نہیں سوجھی کہ کھیل سے زیادہ ضروری نہانا ہوتا ہے ورنہ کڑکڑاتے جاڑے اور پالے میں ہمیں غسل خانے میں زبردستی بند کر کے اوپر سے اگر ٹھنڈے پانی کے فوارے کھول دیں تو پانی کے پہلے ہی چھینٹے کے ساتھ ہم غسل خانہ میں اکڑ کر تختہ ہو جائیں۔ کرکٹ میں زیادہ سے زیادہ زخمی ہوسکتے ہیں اور بعد میں علاج کر کے اچھے ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا نیم رضا مندی کے انداز میں چھیڑتے ہوئے بولے،

’’میر صاحب کالرا اور پلیگ کی طرح یہ بھی تو متعدی وبا ہے۔ پھر وبائے عام میں مرنا مرزا غالبؔ نے بھی پسند نہ کیا تھا۔ تو آخر اس خاکسار کو شہید کروا کے آپ کو کیا ملے گا۔‘‘

اتراتے ہوئے بولے، ’’خیر اگر تعلقات برقرار رکھنا ہیں تو کل ٹھیک دس بجے غریب خانے پر کمنٹری سننے آجائیے۔‘‘

سوچا، کھیلنے سے سننا زیادہ آسان ہوگا۔ لہٰذا فوراً حامی بھرلی۔

دوسرے دن وعدے کے مطابق ٹھیک دس بجے میر صاحب کے یہاں پہنچے تو نقشہ ہی کچھ عجیب نظر آیا۔ ملاقاتی کمرے کی بیچ کی میز پر خاصدان کے بجائے ریڈیو رکھا ہواتھا اور اس کا مائک کمرے کے باہر سڑک پر لگا ہوا تھا۔ مائک کے نیچے ایک بلیک بورڈ آویزاں تھا۔ میر صاحب ٹرانزسٹر لٹکائے کسی کو ہاتھوں ہاتھ کمرے میں لاکر صوفے پر بٹھاتے، کسی کو کمرے کے باہر فٹ پاتھ پر کھڑے رہنے کا حکم دیتے۔ انتظام کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے جاتے۔ ایک صاحب بولے،

’’کیوں نہ ہو بھائی! ٹیسٹ کا معاملہ ہے۔ خدا کے فضل سے پہلا ٹیسٹ ہم جیت چکے ہیں۔ اس بار بھی شان کریمی کے صدقے میں چھکے نہ چھڑوا دیے تو کوئی بات نہ ہوئی۔ اگر محبِّ وطن ہمارے کھلاڑیوں کی کام یابی کے لیے گڑگڑا کر بارگاہِ رب العزّت میں دعا مانگیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ میدان ہمارے ہاتھ نہ رہے۔ پھر اس میں شرم کی کیا بات ہے۔ دعا تو رستم بھی مقابلے سے پہلے مانگتا تھا، اور غالب بھی آتا تھا۔‘‘

ان کے مخاطب اپنی سفید براق نورانی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آمین کہہ کر بولے، ’’بھائی دو رکعت شکرانہ تو میں نے بھی مانی ہے۔‘‘

ہمارے میر صاحب پر اس وقت باقاعدہ ’’کرکٹیریا‘‘ کے دورے پڑ رہے تھے۔ بندے کا یہ عالم تھا کہ ان سے جس موضوع پر بھی بات کرتا اس کا جواب وہ کرکٹ کی بامحاورہ زبان میں دیتے۔

حضرات علم اور تجربے کے سلسلے میں ایک دوسرے پر رعب جمانے کے لیے اپنی اپنی عمریں ایک دوسرے سے بڑھا چڑھا کر بتا رہے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب پوچھ بیٹھے، ’’میر صاحب آپ تو ان کے ہم عمر ہیں، بھلا بتائیے آپ کی عمر کیا ہوگی؟‘‘

میر صاحب نے کہا، ’’اگلے ننانوے سال بعد بھی خاکسار ننانوے ناٹ آؤٹ ہی رہے گا۔‘‘

جب بات باپ دادا تک پہنچی تو میر صاحب نے دخل در معقولات کرتے ہوئے کہا، ’’بھائیو! میرے بڑوں کو کچھ نہ کہو، کیوں کہ ایک نہ ایک دن ہم سبھی کو ملک الموت کے ہاتھوں کیچ ہونا ہے۔‘‘

اس کے بعد بے ثباتیٔ عالم پر تبصرہ کرتے ہوئے بولے، ’’یہ دنیا ایک ٹیسٹ میچ ہے۔ اس کے اوپننگ بیٹسمین بابا آدم اور ماما حوّا تھے۔ اس میچ کی پہلی اننگ چل رہی ہے اور دوسری میدانِ حشر میں ہوگی۔‘‘

کسی نے پوچھا، ’’کیا قیامت آنے کے لیے روس اور امریکا میں جنگ ہونا ضروری ہے۔‘‘

بولے، ’’بالکل! مگر قیامت سے پہلے دونوں میں ایٹمی ٹیسٹ میچ ضرور ہوگا۔‘‘

اتنے میں فٹ پاتھ سے نعرے لگنے لگے کہ وقت ہوگیا ریڈیو کھولیے!

ایک صاحب ترکاری کا جھولا لیے کمنٹری سن رہے تھے۔ ان کی باتوں سے معلوم ہوا کہ دفتر سے چھٹی لیے ہوئے ہیں اور ترکاری ابھی خریدی نہیں ہے۔

ایک صاحب زادے بغل میں بستہ دبائے اپنے ماسٹر کے ساتھ کھڑے کمنٹری سن رہے تھے۔ ماسٹر نے چلتے وقت شاگردِ رشید سے اسکور پوچھا۔

اس میچ میں ہمارے ایک امریکی دوست مل گئے۔ ساتھ ہی ان کی فرم کے اسسٹنٹ بھی تھے۔ میں نے پوچھا، ’’آپ انہیں کام کے وقت میں کمنٹری سننے سے نہیں روکتے؟‘‘

وہ بے بسی کے انداز میں بولے، ’’بھئی کسی کے مذہبی مشاغل میں مخل ہونے کی ذمہ داری کون اپنے سر لے۔‘‘

ہم اپنے کسی دوست کے ساتھ چائے پینے ایک ہوٹل میں پہنچے۔ ہوٹل میں بڑے زور شور سے کمنٹری سنی جارہی تھی۔ لہٰذا چائے تو جاتے ہی مل گئی لیکن جگہ آخر تک نہ مل سکی۔ کمنٹری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ ریڈیو اور ہوٹل دونوں کی کمنٹری ایک ساتھ چل رہی تھی اور اس قسم کی آوازیں کانوں میں پڑرہی تھیں،

’’دو چائے کارڈلے ٹورنس۔ ایک آملیٹ، چار سلائس ایک کافی ٹوٹل گوزٹو۔ بیس آنے۔ ایک انڈا لگ آؤٹ۔ ۔ ۔ وغیرہ۔‘‘

اتنے میں ہوٹل والے نے پوچھا، ’’کارڈلے اب تک کھیل رہا ہے؟‘‘

’’ہاں!‘‘

ہوٹل والے نے غصہ میں آپے سے باہر ہو کر چیختے ہوئے کہا، ’’اگر کارڈلے اب بھی کھیل رہا ہے تو ریڈیو بند کر دو۔‘‘

اس کے بعد ہوٹل سے نکل کر اپنے غیر ملکی دوست کے ساتھ ان کے دفتر تک گیا۔

دفتر والے برار فون پر اسکور پوچھ رہے تھے۔

ایک صاحب نے فون کیا، ’’ہلو۔ ہلو۔‘‘

’’یس ریلوے انکوائری۔‘‘

’’کیا اسکور ہے۔‘‘

’’یہ ریلوے انکوائری ہے بابا۔‘‘

’’تو آپ کو اسکور تک نہیں معلوم؟‘‘

’’جی بالکل نہیں۔‘‘

’’افوہ! حکومت نے بھی کیسے کیسے لوگ رکھ چھوڑے ہیں جو اسکور تک نہیں بتا سکتے۔ بھلا یہ حکومت چل سکتی ہے؟‘‘

مجبوراً ان صاحب نے ٹیلی فون ایکسچینج سے رجوع کیا۔

’’ایم ۔ سی سی۔ کا اسکور کیا ہے؟‘‘

’’4 وکٹ پر 190!‘‘

’’اور انگلینڈ کا اسکور؟‘‘

’’انگلینڈ ایم سی سی کی ٹیم کا دوسرا نام ہے۔‘‘

تھوڑی دیر بعد پھر فون کیا، ’’ہلو! اسکور پلیز؟‘‘

نہایت غضب ناک آواز آئی، ’’ایم سی سی آل آ ؤٹ۔‘‘

’’ہلو! بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ ابھی ابھی تو آپ نے بتایا تھا کہ چار وکٹ گرے ہیں۔‘‘

جواب میں خوف ناک آواز گرجی، ’’زیادہ پریشان نہ کیجیے۔ آپ نے غلط نمبر ملایا ہے۔‘‘

’’اوہ، ویری سوری رانگ نمبر۔‘‘

اس حادثے پر ایک صاحب نے اپنی اسکور پوچھنے کی داستان غم سناتے ہوئے کہا، ’’میرے اسکور پوچھنے پر جواب آیا۔ اس وقت سارے کھلاڑی سو رہے ہیں اسکور بتانے سے کہیں ان کی آنکھ نہ کھل جائے۔‘‘

’’تو کیا اس وقت رات ہے؟‘‘

’’جی ہاں، اس وقت رات کے ٹھیک دو بجے ہیں۔‘‘

جھینپ مٹانے کے لیے کہا، ’’جی شکریہ! دراصل آپ سے اسکور کے بہانے وقت پوچھنا تھا۔‘‘

صاحب اسی طرح جو میں ایک دن دفتر سے گھر پہنچا تو بیگم نے اسکور پوچھا۔

میں نے کہا، ’’آج بالائی آمدنی میں صرف دس روپے ملے ہیں۔‘‘

اس پر بیگم صاحبہ نے بڑے زور سے ڈانٹا، ’’میں آمدنی نہیں میچ کا اسکور پوچھ رہی ہوں۔‘‘

چنانچہ جناب اسکور معلوم کرنے کے لیے الٹے پاؤں پنواڑی کی دکان تک جانا پڑا۔

یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ ہمارے ایک دوست ٹرانسسٹر لٹکائے ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے۔ اتنے میں آواز آئی، ’’یہ آل انڈیا ریڈیو ہے۔ اب کمنٹری بند کی جاتی ہے۔‘‘ اور ہم میر صاحب سے دن بھر کا اسکور پوچھے بغیر گھر واپس آگئے۔

(مزاح نگار احمد جمال پاشا کا فکاہیہ "ستم ایجاد کرکٹ اور میں بیچارہ”)

Comments

یہ بھی پڑھیں