The news is by your side.

Advertisement

جعلی اکاونٹس کیس میں فریال تالپورنیب کے روبروپیش

22 سوالات کے جوابات کے لیے 15 روز کی مہلت

راولپنڈی : جعلی اکاؤنٹس کیس میں پیپلزپارٹی رہنما فریال تالپور نیب کے روبروپیش ہوئیں، فریال تالپور سے ایک گھنٹہ تفتیش کی گئی، نیب کی جانب  سے فریال تالپور کو22 سوالات پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا جن کہ 15 روز کے اندرجوابات طلب کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جعلی اکاونٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور نیب راولپنڈی میں پیش ہوگئیں، نیب کی مشترکہ جےآئی ٹی فریال تالپور کاجوائنٹ وینچر کیس سے متعلق بیان ریکارڈ کیا، ڈی جی نیب عرفان منگی خود بیان ریکارڈ کیا جبکہ ڈی جی نیب کے ہمراہ 4 تفتیشی افسران بھی موجود تھے۔

فریال تالپورسےایک گھنٹہ تفتیش کی گئی، نیب کی جانب سے فریال تالپورکوسوالنامہ دےدیاگیا اور 15 روز کے اندر 22سوالات کے جوابات مانگےگئے ہیں۔

یاد رہے گذشتہ روز نیب طلبی کے بعد فریال تالپور نے نیب میں گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، دائر درخواست میں موقف اختیارکیاگیاکہ نیب راولپنڈی نے 17 اپریل کو جے آئی ٹی کے  سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے جو بدنیتی پر مشتمل ہے۔

درخواست میں کہاگیا تھا کہ نیب کی جانب سے جاری کیا گیا کال اپ نوٹس بدنیتی پر مشتمل ہے، درخواست گزار کو سیاسی اور ٹارگٹڈ انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی کہ گرفتار ی کا اندیشہ ہے، عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

مزید پڑھیں : جعلی اکاؤنٹس کیس، فریال تالپورکی کل نیب میں طلبی ، 

درخواست میں چیرمین نیب اور ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب فریق بنائے گئے تھے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی اکاونٹس کیس میں آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کی 10درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 29اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرلی تھی۔

دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ کیا یہ کوئی مختلف انکوائری ہے؟ اس پر فاروق نائیک نے بتایا کہ جی یہ الگ معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ فریال تالپور نے جعلی اکاﺅنٹس کیس میں 29 اپریل تک عبوری ضمانت کررکھی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں