اتوار, مارچ 8, 2026
اشتہار

جعلی نوٹوں کا کاروبار کیسے ہوتا ہے؟ 2005 کا ایک واقعہ

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (28 جنوری 2026): گارڈن میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے اگر نہ روکا جاتا تو معلوم نہیں یہ کہاں تک پہنچتا۔ ملزم جعلی نوٹوں اور دستاویزات کا کاروبار کرتے ہوئے خود کو بہت چالاک سمجھ رہا تھا جسے پولیس نے جال بچھا کر پکڑا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’کرمنلز موسٹ وانٹڈ‘ میں جعلساز کو جال میں پھنسا کر گرفتار کرنے تک کی کہانی دکھائی گئی۔ 23 اکتوبر 2025 کو گارڈن پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر 430/25 درج کی گئی جس میں دفعات 420، 471، 468 اور 489-C شامل کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی نوٹ پہنچاننے کا آسان طریقہ

پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک شخص سر عام جعلی نوٹوں کا کاروبار کر رہا ہے، معلوم کرنے کیلیے کرمنلز موسٹ وانٹڈ کی ٹیم نے بھی اپنے ذرائع استعمال کیے تو پتا چلا کہ وہ شخص گھروں کے الاٹمنٹ آرڈر، پی آئی اے کے جوائننگ لیٹر اور کارڈز بھی بنا کر دے رہا ہے۔

پولیس نے ایک جال بچھایا اور ایک بندہ بھیجا جس نے 5 ہزار روپے کے عوض جعلی نوٹ خریدے۔ وہ شخص اتنا پراعتماد تھا کہ اس نے کہا کہ ’اسے کوئی نہیں پکڑ سکتا، یہ نوٹ بالکل اصلی جیسے ہیں۔‘

گرفتاری اور تفتیش

معاملے کی اطلاع ڈی ایس پی کو دی گئی جبکہ دوسری طرف جعلساز ایک معصوم شہری کو پولیس یا پی آئی اے میں نوکری دلوانے کا جھانسہ دے کر اس سے اصل کاغذات اور ڈھائی لاکھ روپے کے چیک لے رہا تھا۔ معصوم شہری نے اپنی موٹرسائیکل بیچ کر اسے رقم دی۔

پولیس نے ہوٹل پر چھاپہ مار کر ملزم شہزاد احمد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جس کے قبضے سے جعلی کرنسی نوٹ، ڈالر، جعلی چیک اور دستاویزات برآمد ہوئیں۔

دوران تفتیش انکشافات

ملزم شہزاد احمد نے بتایا کہ وہ گزشتہ 3-4 سال سے یہ کام کر رہا تھا، وہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز ڈال کر لوگوں کو لالچ دیتا تھا کہ وہ 50 ہزار کے بدلے ایک لاکھ دے گا، وہ گوگل سے لیٹرز ڈاؤن لوڈ کر کے ایڈیٹنگ کے ذریعے لوگوں کو جعلی جوائننگ لیٹر دیتا تھا، اس نے اب تک لاکھوں روپے بٹورے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ لوگ ملک دشمن ہیں، عوام کو چاہیے کہ وہ آن لائن نوکریوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور ہمیشہ مستند دفاتر سے رجوع کریں۔

مکمل پروگرام دیکھیں:

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں