ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس: شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ واپس -
The news is by your side.

Advertisement

ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس: شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ واپس

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخود نوٹس کیس میں شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم واپس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخود نوٹس کیس میں شعیب شیخ اور سمیع ابراہیم کی یقین دہانی پرملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

وکیل پی بی اے نے کہا کہ آپ فیصلہ واپس نہ لیں جس پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آپ کی درخواست پرفیصلہ نہیں سنایا تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پاس ایکشن لینے کا اختیار ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے دھمکی دی نہ کسی کوہراساں کیا کسی کے عدالت آنے پرپابندی نہیں ہے۔

پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر شعیب شیخ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

اس سے قبل سماعت کے دوران تحقیقاتی افسر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ 15 سماعت کے دوران ملزمان پیش نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ ایگزیکٹ کیس کے ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کردیں؟۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹ کا مقدمہ ملک اورقوم کے لیے شرم کا مقام ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ ملزمان کے خلاف ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی جائے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کو فوری طور پرکیس کی سماعت کرنے کے لیے اسپیشل بینچ تشکیل دیںے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہدایت کی کہ اسپیشل بینچ دن رات کام کرکے 15 دن میں کیس کا فیصلہ کرے۔


ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخود نوٹس، شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان جمعہ کو طلب


خیال رہے کہ 7 فروری کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں عدالت نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کے تمام ملزمان کو 9 فروری کو طلب کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ اگرجعلی ڈگریوں کی خبر میں صداقت ہے تو کوئی نہیں بچ پائے گا سب کا نام ای سی ایل میں ڈالیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں