The news is by your side.

Advertisement

کیمیکلز سے تیارکردہ جعلی دودھ کی فیکٹری پر چھاپہ، ہوشربا انکشاف

لاہور : اے آر وائی کے پروگرام ذمہ دار کون کی ٹیم نے جعلی اور مضر صحت کھلادودھ بنانے والی مافیا کو بے نقاب کردیا، خفیہ مقام پر بنائے اڈے پر چھاپہ مار کر سارے حقائق سامنے رکھ دئیے۔

پاکستان دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ملک میں اس کی جتنی پیداوار ہے اس سے کہیں زیادہ دودھ استعمال ہورہا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ اگر پیداوار اتنی نہیں جتنی کہ استعمال ہورہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اضافی دودھ کہاں سے آرہا ہے؟ اور اس کے کیا ذرائع ہیں؟

اس حوالے سے ذمہ دار کون کی ٹیم نے کھوج لگا لیا، پنجاب میں دودھ مافیا نے ویران علاقوں میں اپنے اڈے قائم کیے ہوئے ہیں جہاں یہ جعلی اور کھلا دودھ تیار کر کے دیگر شہروں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔

جعلی دودھ مافیا کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کیلئے ذمہ دار کون کی ٹیم تشکیل دی گئی اور اسے اس مذکورہ ویران علاقے میں بھیج دیا جیسے ہی اس مکروہ دھندہ کرنے والوں نے اپنے کام کا آغاز کیا تو ٹیم نے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں محمد عدنان بدر کی سربراہی میں چھاپہ مارا۔

اے آر وائی کی ٹیم کو دیکھتے ہی وہام موجود لوگ قریبی کھیتوں میں بھاگ گئے، اس مقام پر بغیر کسی بھینس یا گائے کے کیمیکل کی مدد سے جعلی اور انتہائی مضر صحت دودھ بنایا جا رہا تھا۔

اس جعلی دودھ بنانے والی فیکٹری میں موجود سامان میں پانی کے علاوہ یوریا ( کھاد) بناسپتی گھی، کوکنگ آئل اور سوکھے دودھ کو ایک مشین میں ڈال کر جعلی دودھ تیار کیا جاتا ہے۔

اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں محمد عدنان بدر نے کہا کہ ہم کو جب اطلاع ملی تو ہم نے اس مافیا کیخلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں