جعلی پیر کے بہیمانہ تشدد سے خاتون جاں بحق -
The news is by your side.

Advertisement

جعلی پیر کے بہیمانہ تشدد سے خاتون جاں بحق

لاہور: صوبہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں جعلی پیر کے تشدد سے 34 سالہ خاتون جاں بحق ہوگئی۔ جعلی پیر نے جن نکالنے کے بہانے خاتون پر شدید تشدد کیا اور ہاتھ پاؤں بھی داغے۔ خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق خاتون کے شوہر نذر حسین نے پولیس کو بتایا کہ 34 سالہ ثریا کی طبیعت ناساز تھی جسے دم کروانے کے لیے وہ سجاد آباد کے رہائشی جعلی پیر امان اللہ کو گھر لایا۔

جعلی پیر امان اللہ اور اس کے چیلے عبد الحمید نے اسے آگاہ کیا کہ اس کی بیوی پر جن کا قبضہ ہے جسے بھگانے کے لیے عمل کرنا ہوگا۔

بعد ازاں انہوں نے ثریا کو کمرے میں بند کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ جعلی پیر نے خاتون کے سر پر ڈنڈے سے ضربیں لگائیں اور اس کے ہاتھ پاؤں آگ سے داغے۔ اس دوران خاتون کا شوہر انہیں غیر انسانی سلوک سے روکتا رہا۔

خاتون کی حالت غیر ہونے پر جعلی پیر اور اس کا ساتھی اسے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ جعلی پیر کے تشدد سے شدید زخمی ہونے والی خاتون کو بعد ازاں ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ مقتولہ ثریا 3 بچوں کی ماں تھی۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے جعلی پیر اور اس کے چیلے کی گرفتاری کے لیے تلاشی اور چھاپے شروع کردیے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں ضعیف الاعتقادی، جہالت اور کم علمی کے سبب اکثر افراد اپنے مختلف مسائل کے حل اور بیماریوں کے علاج کے لیے پیر فقیروں سے رجوع کرتے ہیں جو اکثر اوقات جعلی نکلتے ہیں۔

ان جعلی پیروں کے غیر انسانی سلوک، تشدد اور ناقص مشوروں کی وجہ سے کئی افسوسناک حادثات پیش آچکے ہیں۔

اس سے قبل پنجاب ہی کے شہر فیروز والہ میں جعلی پیر کے کہنے پر ماں اور نانی نے 7 سالہ بچے کو پھندہ لگا کر مار ڈالا تھا۔ جعلی پیر نے انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے بچے کی قربانی دینے کا کہا تھا جس کے بعد خاتون نے اپنے ہی بیٹے کو قربان کر ڈالا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں