The news is by your side.

Advertisement

مریدوں نے خود ایک دوسرے کو قتل کیا، جعلی پیر اعتراف سے منحرف

سرگودھا : سرگودھا کے ایک آستانے میں 20 زائرین کو ڈنڈے مار مار کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار جعلی پیر نے کہا ہے کہ مریدین نے ایک دوسرے کو خود قتل کیا.

تفصیلات کے مطابق سرگودھا کے نواحی گاؤں چک 95 میں قائم آستانے پر اپنے 20 مریدوں کو ڈنڈوں کے وار کر کے قتل کرنے والے جعلی پیر عبد الوحید نے کہا ہے کہ مزار میں آنے والے زائرین نے ایک دوسرے کوخود قتل کیا۔

جب کہ مقدمے کے ایک اور ملزم توقیر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ اسے بھی وحید کے مریدوں سے جان کا خطرہ ہے۔


*درگاہ میں لاٹھیوں اور چھریوں کے وار سے 20 افراد قتل


واضح رہے کہ اس سے قبل آستانے کے گدی نشین عبد الوحید نے ابتدائی بیان میں اقرار کیا تھا کہ اس نے مریدوں کو اپنے قتل کی سازش بے نقاب ہونے کے بعد قتل کیا تھا کیوں کہ وہ لوگ آستانے پر قبضہ کرنا چاہتے تھے جس کی اطلاع میرے مرشد نے اپنے انتقال کے وقت ہی دے دی تھی۔

بعد ازاں ملزم نے اپنا بیان تبدیل کیا اورعدالت میں پیش ہوتے وقت میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کہ مرنے والے تمام مرید میرے بیٹے تھے جنہیں اللہ کی راہ میں قربان کیا جب کہ اگلے ہی روز ملزم کی جیل میں بنائی گئی ویڈیو بھی منظر عام پر آ گئی جس میں پورے واقعے کو بیان کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔


*بیٹے تھے اللہ کے لیے قربان کردیے، 20 افراد کے قاتل کا سفاکانہ اعتراف


تاہم اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ ملام اپنے دوسرے بیان سے بھی منہ کر گیا ہے اور اب اس نے الزام لگایا ہے کہ مرنے والے مریدوں نے خود ہی ایک دوسرے کو ڈنڈے مار کر مار کر قتل کیا ہے اس لیے اس قتل کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ 2 اپریل کو ہونے والے اس ہولناک واقعے میں خواتین سمیت 20 افراد کو قتل جب کہ متعدد کو زخمی کر دیا گیا تھا جس کے بعد آستانے کے گدی نشین سمیت تین ملزمان کو حراست میں لیا گیا تھا جن کا چالان ملزم کا ڈی این اے لینے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے 15 مئی کو پیش کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں