site
stats
پاکستان

کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں معصوم نوجوان ہلاک

کراچی: کراچی کے علاقے سندھی مسلم سوسائٹی فیروز آباد تھانے کی حدود میں کار پر مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی جانب کی گئی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سندھی مسلم سوسائیٹی میں مبینہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ایک نوجوان ہلاک جب کہ گاڑی چلانے والا زخمی ہو گیا ہے، دونوں کو فیروزآباد پولیس نے جناح اسپتال منتقل کیا جہاں ہلاک ہونے والے نوجوان کی شناخت ابرار کے نام سے ہوئی ہے جب کہ دوسرے زخمی کی شناخت دلنواز کے نام سے ہوئی ہے،مشکوک زخمی شخص دلنوازسے تحقیقات جا ری ہیں،اُس کی گاری پر لگی نمبر پلیٹ بھی جعلی ہے۔

جناح اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ابرار کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے، ابرار کو 3 گولیاں لگیں،ایک گولی سر پر لگی اور 2 گولیاں جسم کے آر پار ہو گئیں۔

پولیس کے مطابق کارروائی پولیس اہلکاروں کی جانب سے کی گئی تا ہم ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے کہ پولیس موبائل کس تھانے کی تھی اور اس میں سوار اہلکار کون تھے اسی طرح اسلحہ سرکاری تھا یا نہیں اس کا پتہ بھی فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہی چل سکے گا۔


Mobile by arynews

عینی شاہدین کے مطابق متعلقہ کار کی کھڑکی پر ایک نوجوان لٹکا ہوا تھا اور ذور ذور سے چلا رہا تھا جب کہ گاڑی میں سوار شخص گاڑی کو تیزی سے دوڑائے جا رہا تھا کہ وہاں موجود پولیس موبائل نے کار پر فائرنگ کی جس سے گاڑی کی کھڑکی پر لٹکا نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہو گیا تا ہم پولیس وین پر نہ تونمبر پلیٹ آویزاں تھی نہ کسی تھانے یا کسی ذیلی محکمے کا نام تحریر تھا۔

عینی شاہدین کا کہناہے کہ سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے خود کو سی ٹی ڈی کے اہلکار بتا کر موقعہ سے فرار ہو گئے،پولیس اہلکاروں کی وین میں نہ تو نمبر پلیٹ آویزاں تھی نہ ہی کسی تھانے کا نام درج تھا۔

ایس ایچ او تھانہ فیروز آباد کینسن ڈین کا کہنا ہے کہ پولیس موبائل سے کار پر فائرنگ کی گئی جس سے ابرار حسین نامی نوجوان ہلاک جبکہ دلنواز نامی شخص زخمی ہو گیا۔ تاہم ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ وہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو نہیں جانتے۔

پولیس نے زخمی و ہلاک ہونے والے افراد کو اسپتال منتقل کیا جہاں انہیں بتایا کہ دونوں افراد ڈاکو ہیں اور مقابلے میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ہلاک ہونے والے نوجوان ابرار کے دوست شہریار کی جانب سے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے بیان نے واقعہ کا رخ ہی بدل دیا ہے، شہریار کے مطابق ہلاک ہونے والا نوجوان ابرار کوئی ڈاکو نہیں معصوم شہری اور اس کا قریبی دوست ہے۔

ابرار کے دوست شہریار نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرایا کہ ابرار نے موبائل فون فروخت کرنے کے لیے ویب سائیٹ پر اشتہار دیا تھا جس پر ایک خریدار نے فون کر کے موبائل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی جس کے بعد ہم دونوں مقررہ وقت اور مقام پر خریدار سے ملنے پہنچے اُ س شخص نے ابرار کو اپنے گاڑی میں بٹھایا اور موبائل پسند کرنے کے بعد نقد رقم کے بجائے پرائز بانڈ دینا چاہا

ابرار گاڑی سے اتر کر میرے ہاس آیا اور بتایا کہ خریدار نقد رقم کے بجائے پرائز بانڈ دینا چاہتا تھا میں نے کہا کہ لے لو ابرار جیسے ہی گاڑی کے قریب پہنچا اُس نے گارٰ چلا دی اور ابرار گاڑی کی کھڑکی پر لٹک گیا اس کے بعد ابرار اور گاڑی میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

بعد ازاں مجھے پولیس مقابلے کی اطلاع ملی تو میں جناح اسپتال پہنچا جہاں بتایا گیا کہ وہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے حا لانکہ ہم موبائل بیچنے گئے تھے چھننے نہیں۔

واقعے کے خلاف مقتول ابرار کے اہل خانہ نے جناح اسپتال کے باہر احتجاج کیا۔ ابرار کے چچا کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابرار کے 2 دوستوں کو تھانے میں بند کر دیا ہے۔ انصاف دلایا جائے۔

تحقیقات میں نیا رخ آنے کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے بارے میں معلوم کیا جا رہا ہے جب کہ زخمی شخص دلنواز کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ اس کے خلاف کئی تھانوں میں دھوکہ دہی اور نوسربازی کے مقدمات درج ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top