کراچی (20 مئی 2026): پاکستان ریلوے نے جعلی ٹکٹوں کے ذریعے مسافروں کو دھوکا دینے والے عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی چیف کمرشل منیجر جناب ناصر نذیر کی ہدایات پر تمام ڈویژنل کمرشل افسران کو حکم جاری کیا گیا ہے کہ ٹرین چیکنگ اسٹاف ہر ممکن صورت میں مسافروں کے ٹکٹ اسکین کرے اور کسی بھی مشکوک ٹکٹ کی فوری تصدیق یقینی بنائی جائے۔
کراچی کینٹ ریزرویشن آفس میں ایک اہم کارروائی اُس وقت عمل میں آئی جب ایک شخص پہلے سے جاری شدہ ٹکٹ پر اضافی برتھ حاصل کرنے کے لیے کاؤنٹر پر پہنچا۔ عملے نے ٹکٹ کی جانچ کے دوران مشتبہ صورت حال محسوس کی، جس پر بیک اینڈ سسٹم کی فوری ویری فکیشن کی گئی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ٹکٹ جعلی تھا اور اس کا پاکستان ریلوے کے ریکارڈ میں کوئی اندراج موجود نہیں تھا۔ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا، جب کہ مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
مسافر ہوشیار! جعلی ٹکٹ مافیا کا نیا طریقہ بےنقاب
پاکستان ریلویز پولیس اس جعل سازی میں ملوث گروہ اور اس کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈپٹی چیف کمرشل منیجر جناب ناصر نذیر کا کہنا ہے کہ ٹکٹ اسکیننگ، سخت چیکنگ اور جدید تصدیقی نظام کے ذریعے جعلی ٹکٹ مافیا کا خاتمہ کیا جائے گا۔
اُنھوں نے چیکنگ اسٹاف کو ہدایت کی کہ کسی بھی ٹکٹ کو بغیر تصدیق کے قبول نہ کیا جائے تاکہ مسافروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ پاکستان ریلوے حکام نے مسافروں سے بھی اپیل کی ہے کہ صرف مستند ذرائع سے ٹکٹ خریدیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع ریلوے حکام کو دیں۔
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں


