The news is by your side.

Advertisement

چِکلک سے چِک تک

فخرالدین جی ابراہیم کا نام پاکستان میں ایک قانون داں کے طور پر ہی نہیں لیا جاتا بلکہ جمہوری قوتوں کے حامی اور ایک اصول پسند شخصیت کے طور پر بھی انھیں‌ عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

مختلف اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہنے والے فخر الدین جی ابراہیم رواں سال کے آغاز پر ہمیشہ کے لیے یہ دنیا چھوڑ گئے۔

قریبی لوگ اور ان سے بے تکلف احباب انھیں ان کی عرفیت فخرو بھائی سے مخاطب کرتے تھے۔ بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ زمانۂ طالبِ علمی میں وہ ہم جماعتوں میں “چکلک” کے نام سے مشہور تھے۔ یہ دل چسپ انکشاف مرحوم نے ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو کے دوران کیا تھا۔

فخرالدین جی ابراہیم نے بتایا کہ اسکول کے نصاب میں شامل ایک مضمون کا عنوان “چِکلک” تھا اور چوں کہ وہ بہت دبلے پتلے تھے تو ساتھیوں نے انھیں “چِکلک” پکارنا شروع کر دیا۔

بعد میں یہی نام سکڑ کر “چِک” ہوگیا۔ یہ فخر الدین جی ابراہیم کے لندن میں قیام دوران ہوا۔ وہ بتاتے ہیں جب لندن گیا تو ممبئی کے ایک صاحب بھی وہاں آگئے (پرانے دوست) جو مجھے “چِکلک” کہتے رہے۔ میں نے کہا بھی کہ مجھے میرے نام سے پکارو، مگر وہ نہ مانے۔ ان سے یہ نام سن کر لندن میں مجھے دیگر احباب نے “چِک” کہنا شروع کر دیا۔

فخر الدین جی ابراہیم 1928 میں ہندوستان کی ریاست گجرات کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔

عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھنے والے فخرو بھائی کا نام پاکستان میں جمہوریت پسند اور جمہوری قوتوں کا ساتھ دینے والوں کے لیے ایک روشن حوالہ ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں