The news is by your side.

Advertisement

جنوبی سوڈان قحط زدہ ملک قرار

شمالی افریقی ملک جنوبی سوڈان میں قحط نے اپنے پنجے گاڑ لیے۔ انتظامیہ نے علاقے کو باقاعدہ قحط زدہ قرار دے کر عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل کردی۔

خیال رہے کہ کسی ملک یا شہر کو قحط زدہ اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب اس کی بڑی آبادی شدید بھوک کا شکار ہو۔ عالمی ادارے اسے ایک بدترین انسانی المیہ قرار دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس قحط کو انسان کی پیدا کردہ آفت قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق جنوبی سوڈان میں مستقل خانہ جنگی کے باعث معیشت بری طرح زبوں حال کا شکار ہوئی جس کا نتیجہ قحط کی صورت میں نکلا ہے۔

مزید پڑھیں: زمبابوے میں قحط، بچے جنگلی پھل کھانے پر مجبور

واضح رہے کہ جنوبی سوڈان، سوڈان کا ہی حصہ تھا تاہم سنہ 2011 میں چند علاقوں نے آزادی حاصل کر کے نیا ملک تشکیل دے دیا۔ ان علاقوں میں تیل کے ذخائر تھے اور امید کی جارہی تھی کہ ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے یہ اپنی معیشت کو بہتر بنا سکے گا، تاہم 3 سال قبل یہاں بھی خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔

خانہ جنگی کے بعد ملک کی بڑی آبادی بھوک اور غربت کا شکار ہے اور ہزاروں افراد بھوک کے باعث دم توڑ چکے ہیں جس کے بعد اب اسے قحط زدہ ملک قرار دے دیا گیا ہے۔

یہاں لوگوں کا اہم ذریعہ روزگار زراعت تھا تاہم جنگ کی وجہ سے زراعت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

ملک کی آبادی 1 کروڑ 13 لاکھ ہے اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 40 فیصد سے زائد آبادی کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے سوڈان میں امدادی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوششیں ناکافی ہیں اور جنوبی سوڈان میں مزید بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بھوک کے باعث مرنے سے بچایا جاسکے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مزید 3 ممالک صومالیہ، نائیجیریا اور مشرق وسطیٰ کا ملک یمن بھی قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں