اتوار, جون 14, 2026
اشتہار

جب امریکہ نے ایک خاکنائے کو کاٹ کر ‘آبی شاہراہ’ بنائی!

اشتہار

حیرت انگیز

نہر پانامہ دنیا کی ایک بہت بڑی آبی شاہراہ ہے، جسے جمہوریہ امریکہ نے خاکنائے پانامہ کو کاٹ کر تیار کیا تھا۔ اس ہنر نے اطلانطک کو بحر الکاہل سے ملا دیا ہے۔ اگرچہ جہاز اس میں سے پہلے ہی گزرنے لگے تھے، لیکن اس کے افتتاح کی رسم سرکاری طور پر تھیوڈر روز ویلیٹ صدر جمہوریہ امریکہ نے ۱۲ جولائی ۱۹۱۵ء کو ادا کی۔ دنیا میں اسے انجینیئری کے عجائبات کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس نہر کی کھدائی ۱۹۰۴ء میں شروع ہوئی اور ۱۹۱۴ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ اس کے لیے ریاست پانامہ سے دائمی پٹے پر زمین لے لی گئی تھی۔ یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ نہر بنانے کا خیال پہلے پہل جمہوریہ امریکہ کو آیا، جب کہ جس زمانے میں ہسپانیہ کی سلطنت عروج پر تھی اور نئی دنیا میں اس کی آباد کاری کا ڈنکا بج رہا تھا، اس زمانے میں بھی یہاں سے ایک نہر بنانے کی تجویز زیر غور آئی تھی۔ اس وقت تک جمہوریہ امریکہ وجود ہی میں نہ آئی تھی۔ جب امریکی ریاستوں نے آزادی حاصل کر لی تو انھیں یہ حساس ہوا کہ اگر پانامہ میں سے ایک نہر بنا دی جائے، جس سے جہاز بآسانی گزار سکیں تو اطلانطک سے بحر الکاہل میں جانے کے لیے جہازوں کو جنوبی امریکہ کا چکر نہ لگانا پڑے گا۔ اس طرح وقت بھی بچ جائے گا، خرچ میں بھی کفایت رہے گی اور تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ عین اسی زمانے میں برطانیہ اور فرانس بھی اس نہر کی تعمیر میں دل چسپی لینے لگے۔ جمہوریہ امریکہ نے پہلے برطانیہ سے معاہدہ کر کے نہر بنانے کے پورے حقوق حاصل کر لیے۔ پھر فرانس کی کوششیں ناکام ہوئیں اور اس کی دو بڑی تجارتی کمپنیوں کا دیوالہ نکل گیا تو اس نے بھی دست برداری اختیار کر لی اور جمہوریہ امریکہ تنہا میدان میں رہ گئی۔

نہر کی تعمیر پر کل تینتیس کروڑ چھیاسٹھ لاکھ پچاس ہزار ڈالر خرچ ہوئے اور تقریباً چوبیس کروڑ مکعب گز زمین کھو دی گئی۔ نہر کا رخ شہرقی غربی نہیں، بلکہ اطلانطک کی جانب سے کولون کو مرکز قرار دیں تو بحر الکاہل کے ساحل پر بلبوا تک اس کا رخ جنوبی اور جنوب مشرقی ہے۔ اگر ایک سمندر کے ساحل سے دوسرے سمندر کے ساحل تک فاصلہ ناپا جائے تو اصل نہر قریباً چالیس میل لمبی ہے۔ لیکن اطرافِ نہر میں دونوں طرف سمندروں میں بھی کسی قدر زمین کھود کر جہازوں کی آمد و رفت کے قابل بنانی پڑی تھی۔ اسے بھی حساب میں شامل کر لیا جائے تو نہر کی لمبائی پونے اکیاون میل بن جاتی ہے۔ اس کی کم سے کم گہرائی اکتالیس فٹ ہے۔

انجینیئری کا خاص کمال نہر کھودنے میں نہیں بلکہ اس کے اندر بند بنانے میں صرف کیا گیا ہے۔ مثلاً جو جہاز اوقیانوس کی طرف سے نہر میں داخل ہو، اسے بندوں کے پہلے سلسلے میں سطحِ بحر سے پچاسی فٹ کی بلندی پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ پھر جہاز ایک اور بند سے گزرتا ہوا بحر الکاہل کی جانب بندوں کے آخری سلسلے میں عام سطح پر آجاتا ہے اور بے تکلف دوسرے سمندر میں داخل ہو جاتا ہے۔ پورا فاصلہ طے کرنے میں سات آٹھ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

اگر یہ نہر نہ بنتی اور وسط امریکہ میں سے جہازوں کے لیے آمدورفت کا انتظام نہ کیا جاتا، تو اندازہ کیجیے کہ کتنی مشقت اٹھانی پڑتی، کتنا وقت اور روپیہ صرف ہوتا! فرض کیجیے کہ جہاز کو وسط امریکہ کی کسی مشرقی بندرگاہ سے مغربی بندرگاہ میں جانا ہوتا تو وہ پورے جنوبی امریکہ کا چکر لگائے بغیر نہ جا سکتا اور یہ فاصلہ کم از کم دس ہزار میل ہوتا۔ اب نہر پاناما میں سے صرف اکاون میل کا فاصلہ طے کر کے جہاز مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کی طرف آجا سکتا ہے۔

(دنیا کے سو تاریخی واقعات کے عنوان سے ولیم اے ڈیوٹ نے اپنی کتاب میں مشہور نہر کے بارے میں یہ مختصر معلومات رقم کی تھیں جسے ہم نے یہاں نقل کیا ہے، اس کا ترجمہ ممتاز ادیب، شاعر، محقق اور مترجم غلام رسول مہر نے کیا ہے)

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں