The news is by your side.

Advertisement

“منافق اور بد دیانت” ادیب جسے نوبیل انعام دیا گیا

ایک عظیم ادیب کے طور پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے لائق، اپنی تخلیقات پر داد اور ستائش کے حق دار تصور کیے جانے والے اور نوبل انعام یافتہ جرمن ادیب گُنٹر گراس کو 2012 میں‌ اپنی ایک نظم کی وجہ سے تضحیک آمیز رویّے اور اپنی تخلیقات پر کڑی تنقید سہنا پڑی تھی۔ اس نظم کا عنوان تھا ’جو کہا جانا چاہیے۔‘

جرمنی کے اس عظیم ادیب اور نوبیل انعام یافتہ مصنف نے دراصل اپنی نظم میں‌ اسرائیل کو ہدفِ تنقید بنایا تھا اور جیسے ہی ان کی یہ تخلیق منظرِ عام پر آئی، گراس کی کردار کُشی کے ساتھ ان کی اس نظم کی ادبی ساخت پر بھی کڑی تنقید شروع ہو گئی۔ انھوں‌ نے سامی دشمنی اور تعصب کے پرچارک کا الزامات کا سامنا کیا، لیکن وہ اس سے قبل جرمنی میں‌ بھی اپنے ایک اعتراف کی وجہ سے جہاں مطعون کیے گئے، وہیں‌ ان کی اخلاقی دیانت کو سراہا بھی گیا اور انھیں‌ بہادر سمجھا گیا۔

یہ 2006 کی بات ہے جس اُن کی آپ بیتی سامنے آئی اور جرمنی میں ان سے متعلق ایک بحث چھڑ گئی۔

’پیلنگ دی اونین‘ نامی کتاب میں اس ادیب نے اعتراف کیا کہ وہ ہٹلر کے دور میں‌ ایک نازی یونٹ میں شامل رہے۔ اس پر ایک حلقے نے انھیں بد دیانت اور ناقابلِ بھروسا کہا۔ ناقدین نے انھیں منافق کہہ کر ان کی اخلاقی حالت اور کردار پر سوال اٹھائے، لیکن انہی میں‌ وہ آوازیں‌ بھی تھیں‌ جنھوں‌ نے اس ادیب کی اخلاقی جرات کو سلام پیش کیا۔

گنٹر گراس کی زندگی اور تخلیقی سفر پر ایک نظر ڈالیں تو کہا جاسکتا ہے کہ انھوں‌ نے بہت لکھا اور خوب لکھا۔ 1961 میں ’کیٹ اینڈ ماؤس‘ اور 1963 میں ’ڈاگز ایئرز‘ کے ساتھ انھوں نے ہٹلر کے زمانے کی وہ روداد تحریر کی جس سے جرمن قوم کا احساسِ جرم جھلکتا ہے۔ ان کی ادبی تخلیقات کو بہت پسند کیا گیا۔

ان کے نازی سپاہی رہنے اور اسرائیل پر ان کی نظم پر شور اور تنقید سے ہٹ کر انھیں آج بھی باکمال تخلیق کار مانا جاتا ہے۔ وہ ایک صرف ادیب ہی نہیں گیت نگار اور مجسمہ ساز بھی تھے۔ گراس وہ ادیب تھے جو اپنی کتب کے سرورق خود بناتے تھے۔

گراس کو ایک بھرپور اور توانا لکھاری کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں