The news is by your side.

Advertisement

وہ خواب جو خطِ ‌نستعلیق کی ایجاد کا سبب بنا

خوش نویسی اور خطّاطی باصرہ نواز، دیدہ زیب اور دل نشیں طرزِ تحریر کا نام ہے جو املا انشا کی صورت گری کی خاص اور مرصّع شکل ہے۔ ہم اپنی عام تحاریر کو کسی بھی قلم سے کاغذ پر لکھ لیتے ہیں، لیکن خوش نویسی اور خطّاطی باقاعدہ فن ہے جو مخصوص قلم اور روشنائی، برش اور رنگوں کے ساتھ خاص مقصد کے تحت کی جاتی ہے۔ یہ مرقّعِ کمالِ فن کسی بھی خطّاط کی مشق و مہارت کا نمونہ ہوتے ہیں اور خوب صورت و دل کش معلوم ہوتے ہیں۔

خوش نویسی اور خطّاطی نفاست، سلیقہ قرینہ، توازن اور جمالیات کا متقاضی فن ہے۔ اگر اسلامی دنیا کی بات کی جائے تو اس فن میں مختلف ادوار میں‌ کئی نام سامنے آئے جنھوں نے نہ صرف شہرت اور نام و مقام پیدا کیا بلکہ اس فن کے باعث عزّت اور تکریم بھی پائی۔

میر علی تبریزی ایسے ہی ایک خطّاط تھے، جنھیں خطِ نستعلیق کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ چودھویں صدی میں ہرات، افغانستان میں پیدا ہوئے۔ ان کی وفات 1452ء میں ہوئی۔ میر علی تبریزی کو قدوةُ الکتاب کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔

خطِ نستعلیق جو اردو، فارسی، پشتو تحریر میں‌ عام استعمال ہوتا ہے، انہی کا ایجاد کردہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میر علی تبریزی نے دو رسم ہائے خط کی خصوصیات کا مطالعہ کرنے کے بعد انھیں‌ بہم کر کے نیا خط یعنی نستعلیق ایجاد کیا، لیکن اس حوالے سے ان کا ایک خواب بھی مشہور ہے۔

میر علی ماہرِ فن اور استاد خطّاط ہونے کے علاوہ شاعر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ میر علی تبریزی نے ایک رات خواب میں ہنسوں (پرندہ) کو پرواز کرتے دیکھا اور دورانِ پرواز ان کے جسم کی لچک اور پَروں کو خوب صورت انداز سے حرکت کرتا دیکھ کر انھیں‌ بہت اچھا لگا۔ بیدار ہونے پر میر علی تبریزی کو اپنا خواب یاد آیا، ان کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ تعلیق کی خم داری اور نسخ کی ہندساتی خصوصیات کے امتزاج کا تجربہ کیا جائے۔ انھوں نے ایسا کیا اور یوں خطِ ‌نستعلیق نے وجود پایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں