کراچی (15 جنوری 2026): سینئر براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ نے آبدیدہ آنکھوں اور لرزتے لہجے کے ساتھ ریڈیو پاکستان سے 45 سالہ رفاقت کو الوداع کہہ دیا۔
اپنے منفرد لب ولہجے اور باوقار انداز سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے والی پی ٹی وی کی سینئر نیوز کاسٹر اور ریڈیو پاکستاسن کی براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ نے آبدیدہ آنکھوں اور لرزتے لہجے کے ساتھ ریڈیو پاکستان سے 45 سالہ رفاقت کو الوداع کہہ دیا۔
عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کو الوداع کہتے ہوئے اپنے جذباتی ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل پیجز پر پوسٹ کر کے اپنے پرستاروں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔
انہوں نے اپنے طویل کیریئر پر اللہ تعالیٰ، والدین کے ساتھ ناظرین اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ریڈیو پاکستان سے 45 سالہ رفاقت کے بعد علیحدگی کا فیصلہ ان کے لیے بہت مشکل اور ذاتی نوعیت کا تھا۔
View this post on Instagram
بعدازاں عشرت فاطمہ نے ایک اور ویڈیو شیئر کرکے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی دل خراش وجہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں اور کہا کہ میں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کیونکہ مجھے نام چاہیے تھا بلکہ مجھے اس کام سے عشق تھا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز میں نے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ نہایت دکھی دل کے ساتھ کیا، میں 1983 سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوں اور 1984 میں خبریں پڑھنی شروع کی۔ یہ میرا جنون اور پاگل پن تھا۔ میں نے اپنے کام سے انصاف کرنے کی کوشش کی۔
عشرت فاطمہ نے مزید کہا کہ پیسہ میرے لیے ترجیح نہیں تھا لیکن آپ جب تک اپنے کام سے انصاف کرسکتے ہیں تو خواہش ہوتی ہے کہ آپ کو کام کرنے کے لیے اسپیس دیا جائے مگر جب آپ کا مقابلہ کام سے نہیں کیا جاسکتا تو منفی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جو تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے کافی عرصہ انتظار کیا کہ مجھے وہ جگہ دی جائے جس کی میں مستحق ہوں لیکن مجھے بار بار احساس دلایا گیا کہ اب میری ضرورت نہیں ہے۔ آج میں کہیں نہیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے مستقبل میں رابطے میں رہنے کے لیے مداحوں سے کہا کہ آگے کے سفر کے لیے میرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (ایکس، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز) پر رابطہ رہے گا۔ ایک ویڈیو اختتام پر عشرت فاطمہ نے سامعین سے دعاؤں کی درخواست کی۔
عشرت فاطمہ کی ریڈیو پاکستان سے رخصتی پر صحافت اور نشریات سے وابستہ متعدد معروف شخصیات نے سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور اردو زبان و نشریاتی صحافت کے لیے ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


