The news is by your side.


نامور پاکستانی اداکار کی ‘ارطغرل غازی’ کے مزار پر حاضری، ویڈیو دیکھیں

کراچی: پاکستان کے مشہور اداکار اور ہدایت کار عدنان صدیقی نے خلافت عثمانیہ کے بانی اور نامور مجاہد ارطغرل غازی کے مزار پر حاضری دی اور ویڈیو بھی بنائی۔

تفصیلات کے مطابق ارطغرل غازی خلافت عثمانیہ کے بانیان میں شامل تھے جنہوں نے اپنے والد سلیمان شاہ کے انتقال کے بعد قائی قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمے داریاں بنھائیں اور عظیم سلطنت کے قیام کے لیے جانی اور مالی قربانیاں دیں۔ ارطغرل غازی کی جدوجہد پر مبنی شہرہ آفاق ڈرامہ سیریز دیریلیش اطغرل دنیا بھر میں مقبول ہے۔

عدنان صدیقی نے ترکی کے شہر استنبول میں ارطغرل غازی کے مزار پر حاضری دی اور اپنے مداحوں کے لیے ویڈیو بھی بنائی جس میں انہوں نے مقبرے کی تاریخ سے صارفین کو روشناس کرایا۔

اداکار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر لکھا کہ پاکستان میں ارطغرل غازی کے مداح بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور اسی ڈرامے کی ہی بات چیت ہوتی ہے، میں ارطغرل کے مزار پر موجود ہوں جو سوغوت میں واقع ہے۔

ترک ڈرامے “ارطغرل غازی” کا سپاہی روشان پاکستان پہنچ گیا

انہوں نے بتایا کہ ارطغرل غازی قائی قبیلے کے سردار تھے جنہوں نے اسلام کی خاطر بہت سی قربانیاں دیں، مسلمانوں اور غیرمسلموں کے لیے ایک جیسی محفوظ اور خوشحال ریاست کی خواہش کی، مزار آنے سے قبل میں سوچ رہا تھا کوئی بہت بڑا مقبرہ ہوگا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ چھوٹا سا مزار ارطغرل غازی کی عظمت کو بیان کرتا ہے۔


View this post on Instagram


One must be marooned on an island to not know about Ertuğrul Ghazi now that he’s moved out of boring history books to the legendary Turkish series Ertuğrul. So much is the frenzied fan following in Pakistan that the period drama captures most of the conversations these days. So here I was, at the tomb of the great Ertuğrul in Söğüt who can be loosely attributed as the founder of Ottoman Empire going by historical events. Ertuğrul, the chieftain of Kayi tribe, the man who championed the cause of Islam, wished for a prosperous and safe state for Muslims and non-Muslims alike and whose regime was based on the tenets of justice and fair play. Multiple thoughts crisscrossed my mind as I took in the beauty and the simplicity of the mausoleum. I had expected a grand monument to celebrate the great Ertuğrul, man of commanding authority, and a greater legacy. And here was a tomb that spoke volumes of the chief’s life but didn’t need to rely on grandiosity. Humbled. . . . . #ertugrulgazi #history #legacy #Turkeydiaries @drkashifhansari

A post shared by Adnan Siddiqui (@adnansid1) on


یہ بھی پڑھیں