The news is by your side.

Advertisement

حضرت امام حسینؓ کے چند سنہرے اقوال

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے چھوٹے نواسے اور حضرت علی ؓ و فاطمہ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ ’حسین‘ نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے۔

امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’حسین منی و انا من الحسین‘ یعنی ’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘۔


حضرت امام حسینؓ کی چند سنہری باتیں

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔

ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا، خود ایک ظلم ہے۔

اگر لوگ موت کو عقل سے اس کی واقعی شکل کے ساتھ تصور کرتے تو دنیا ویران ہو جاتی۔

جو شخص اپنی موت میں تاخیر چاہتا ہو ،اورچاہتا ہو کہ اس کے رزق میں اضافہ ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔

سب سے بڑا سخی وہ انسان ہے جو کسی ایسے کو عطا کرے جس سے کسی قسم کی توقع نہ ہو۔

ذلت کی زندگی سے عزت کی موت کہیں بہتر ہے۔

زندگی کا کوئی اعتبار نہیں جس قدر ممکن ہو دوسروں کے کام آؤ۔

اگر دنیا میں انقلاب لانا چاہتے ہو تو تکذیب نفس کا آغاز خود سے کرو، دنیا خود بدل جائے گی۔

نیک لوگ اپنے انجام سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔

ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھو گے اتنی ہی قربانیاں دینی پڑے گی۔

جو تمہیں دوست رکھتا ہے وہ برائی سے روکے گا اور جو تمہیں دشمن رکھے گا وہ تمہیں برائی پر ابھارے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں