ہندوستان جانے کا مشرقی راستہ معلوم ہو گیا تھا لیکن ابھی یہ ثابت ہونا باقی تھا کہ مغرب کی جانب سے ہندوستان پہنچ سکتے ہیں۔
واسکوڈی گاما کی طرح فرڈیننڈ میگلن بھی پر تگالی تھا۔ یہ پہلا شخص تھا جس کے جہاز نے پوری دنیا کا چکر لگایا۔ واسکوڈی گاما جب دوسری بار ہندوستان کے سفر سے لوٹا تو اس سے میگلن نے ملاقات کی۔ مشرق کے بارے میں واسکوڈی گاما کی کہانیوں کو اس نے بڑے شوق سے سنا۔ ان کہانیوں کو سن کر اس کا دل بھی جزائرِ ہند کی سیر کرنے کے لیے مچلنے لگا۔
جب ہندوستان کے لیے ایک پچیس سالہ نوجوان گورنر بھیجا جانے لگا تو اس نے بھی ساتھ چلنے کی اجازت چاہی۔ وہ نوجوان پرتگالی فوج کا ایک بہادر ترین سپاہی تھا۔ برسوں ہندوستان میں پرتگال کے گورنر کی حیثیت سے رہ چکا تھا۔ وہ پرتگال اس نیّت واپس آیا تھا کہ مغربی سمت سے ہندوستان کا نزدیک کا بحری راستہ دریافت کر سکے۔ اس لیے کہ راسِ امید کے راستے ہندوستان آنے میں کئی مہینے صرف ہو جاتے تھے۔ میگلن نے پرتگال کے بادشاہ سے مذکورہ راستہ دریافت کرنے کے لیے، رقم اور جہازوں کی درخواست کی لیکن بادشاہ نے انکار کر دیا۔ فرڈیننڈ بھی کولمبس کی طرح اسپین چلا گیا۔ شاہ اسپین نے اس کی درخواست کو قبول کیا اور چند روز بعد ہی اسے پانچ جہاز اور ڈھائی سو آدمیوں کا عملہ فراہم کر دیا۔ میگلن اپنے سفر پر روانہ ہوا۔
بحرِ اٹلانٹک کو پار کرنے میں اسے دو مہینے سے زیادہ وقت لگا، جب کہ آج کل کے دخانی جہاز اس سمندر کو پانچ دنوں میں پار کر لیتے ہیں۔ انھیں راستے میں کبھی طوفان کا سامنا کرنا پڑتا تو بھی کبھی ہوا بالکل بند ہو جاتی۔ ایسے میں ان کے جہاز بے کسی سے پانی پر پڑے رہتے اور ہوا کے دوبارہ چلنے کا انتظار کرتے رہتے۔ دسمبر کی ایک صبح ملاحوں نے بھورے ساحل کی ایک پتلی لکیر دیکھی۔ یہ دراصل جنوبی امریکہ کا ساحل تھا۔ اس ساحل کے باشندے امن پسند اور ملنسار تھے۔ میگلن نے ان کے ساتھ چند روز گزارے۔ اس دوران اس نے جہازوں کی مرمت کروائی اور مزید غذا اور پانی فراہم کر لیا۔ جنوبی امریکہ کے ساحل کے گرد دوبارہ سفر شروع ہوا۔ وہ امریکہ کے گرد گھوم کر راستہ تلاش کر رہا تھا کہ موسم سرما آپہنچا۔ فرڈیننڈ کو اپنا سفر خوشگوار موسم کی آمد تک کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ انھوں نے ایک ضلع میں قیام کیا۔ یہاں کے باشندے، امریکہ کے اصل باشندوں سے بالکل مختلف تھے۔ ان کے قد بہت اونچے اور پیر بھی بہت لمبے لیے تھے۔ میگلن نے ان کا نام ہی پیٹا گونین رکھ دیا جس کا مطلب ہوتا ہے ‘ بڑے پیر۔ یہ لوگ کافی ملنسار تھے۔ ان سے انھیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ البتہ اسے اس کے ہی آدمیوں نے کافی پریشان کیا۔
اس کے تین جہازوں کے کپتان اسپینی تھے۔ وہ میگلن سے حسد کرتے تھے کہ اجنبی ہوتے ہوئے اسپینیوں کا سردار بنا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے فرڈیننڈ کے جہاز پر قبضہ کرنے اور اسے قتل کر ڈالنے کی سازش کی لیکن خوش قسمتی سے اسے اس سازش کا علم ہو گیا اور اس نے تینوں کو گولی ماردی۔ وہ فطرتاً ظالم نہیں تھا لیکن یہ قتل اس نے دوسروں کو سبق سکھانے کے لیے کیا تھا۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ اگر تمام ملاح مل جل کر کام نہیں کریں گے اور اس کا حکم نہیں مانیں گے تو ان کا وطن واپس لوٹنا ناممکن ہو جائے گا۔
موسمِ سرما ختم ہوتے ہی اس نے آگے بڑھنا شروع کیا۔ ساحل کی چھان بین کرنے کے لیے سب سے چھوٹے جہاز کو آگے روانہ کیا۔ لیکن سمندر اچانک بپھر گیا اور جہاز چٹانوں سے ٹکرا کر چور چور ہو گیا۔ میگلن بڑی مشکلوں سے اپنے آدمیوں کو بچا پایا۔ جلد ہی خوف ناک طوفانوں نے انھیں گھیر لیا۔ تب ملاحوں نے گھبرا کر اس سے اسپین لوٹ چلنے کی التجا کی۔ وہ سب اس طویل سفر سے تھک گئے تھے اور انھیں یہ خوف کھائے جارہا تھا کہ اگر وہ جلد ہی گھر نہ لوٹے تو شاید پھر کبھی واپس لوٹنا نصیب نہ ہو۔ میگلن نے فیصلہ کن لہجے میں کہا "میں آگے جاؤں گا، چاہے ہم جنوب کے منجمد سمندروں میں کیوں نہ پہنچ جائیں۔ آخر کو یہ زمین کہیں تو ختم ہو گی اور تب ہم اس کے گرد مغرب کی سمت جائیں گے۔ ہمارے پاس غذا، پانی کپڑے اور عمدہ جہاز ہیں۔ پھر ہم کیوں امید چھوڑ دیں؟”
غرض وہ آگے بڑھتے گئے اور چند روز بعد ہی انھیں مغربی سمندر سے گزرنے کا راستہ مل گیا۔ اب ملاحوں میں بڑی اُمنگ اور جوش تھا۔ میگلن نے ان سب کو بلا کر کہا، ہم نے بے شک اٹلانٹک سے دور دراز کے سمندروں کا راستہ دریافت کر لیا ہے۔ اب ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور جزائر شرق الہند کی تلاش کریں جہاں سے ہمیں بہت ساری دولت حاصل ہو سکتی ہے یا یہ خوشخبری لے کر اسپین لوٹ جائیں۔ ہمارے پاس اب صرف تین مہینے کا اناج ہے اور آگے کا سفر بہت طویل بھی ہو سکتا ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ بتلائیے کیا کیا جائے؟” ملاحوں نے شور مچایا، "آگے بڑھیں گے۔ ہم آگے بڑھیں گے۔”
لیکن ایک جہاز کے کپتان نے اعتراض کیا اور کہا "ہمارے جہازوں کو مرمت کی ضرورت ہے اور ہم پہلے ہی ایک جہاز کھو چکے ہیں۔ اس وقت ہمیں واپس جانا چاہیے اور اگلے برس اچھے اور بڑے جہازوں کے ساتھ آنا چاہیے۔” لیکن بقیہ سارے ملّاح چلّانے لگے، "ہم آگے جائیں گے، ہم آگے جائیں گے! اور میگلن نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔
وہ ایک تنگ اور خطر ناک سمندری راستے سے گزرے جسے اب آبنائے میگلن کہا جاتا ہے۔ جب وہ بحرِ مغرب میں پہنچے تو دیکھا کہ وہ جہاز غائب ہے۔ دراصل رات کے اندھیرے میں کپتان نے اپنے جہاز کا رخ موڑ دیا اور واپس اسپین چلا گیا۔ اب میگن کے پاس صرف تین جہاز تھے۔ اس نے بحرِ مغرب کا نام بحر الکاہل ( پر سکون ) رکھا۔ وہ لوگ اس سمندر میں پر سکون و فرحت بخش موسم کا لطف اٹھاتے ہوئے ہفتوں سفر کرتے رہے۔ اچانک مہربان ہوائیں غائب ہو گئیں، جہاز بیچ سمندر میں رک گیا اور وہ ہواؤں کے دوبارہ چلنے کا انتظار کرنے لگے۔ کئی ہفتوں کے بعد مشرقی ہوائیں دوبارہ چلنے لگیں، تب وہ لوگ آگے بڑھ سکے۔ لیکن اب ان کے پاس غذا اور پانی کا ذخیرہ ختم ہو رہا تھا۔ جلد ہی انھیں بھوک اور پیاس کی شدت ستانے لگی، لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد انھیں زمین کی شکل دکھائی دی تو سارے ملّاح خوشی کے مارے خدا کے حضور سرنگوں ہو گئے۔ وہ جن جزائر پر پہنچے تھے، آج انھیں فلپائن کہا جاتا ہے اور وہاں کے باشندے فلپائنی کہلاتے ہیں۔ میگل جنوبی امریکہ سے دسمبر کے آغاز میں روانہ ہوا تھا اور مارچ کے اوائل میں فلپائن پہنچا۔
فلپائنی بڑے ملنسار تھے۔ انھوں نے میگلن کے قدموں میں مچھلیوں اور پھلوں کا ڈھیر لگا دیا۔ میگلن نے فلپائن میں چند ہفتے قیام کیا کیونکہ اس کے چند ساتھی بیمار تھے۔ انھیں آرام اور اچھی غذا کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ انھیں آئندہ سفر کے لیے غذا اور پانی کا ذخیرہ بھی کرنا تھا۔ یہ جزیرے بے حد خوبصورت تھے، اس لیے میگلن ان میں اپنا جہاز لیے کئی دنوں تک گھومتا پھرتا رہا۔ واپسی کے وقت میگلن نے چند تحفے میزبانوں کی نذر کیے جو خاص اسی مقصد سے وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔ فلپائنی ان تحفوں کو پا کر بے حد مسرور ہوئے۔
جب میگلن جزائر سیبو پہنچا تو وہاں کے بادشاہ نے اس کا استقبال کیا۔ میگلن نے بہت جلد بادشاہ کا اعتبار حاصل کر لیا۔ بادشاہ اسے اپنا دوست سمجھنے لگا۔ میگلن نے وہاں سے تجارت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے یہاں کے باشندوں کو لوہا اور کپڑے دیے جس کے بدلے میں اسے سونا حاصل ہوا جو سیبو اور آس پاس کے جزائر میں وافر مقدار میں پایا جاتا تھا۔ میگلن واپس ہونے کو تھا کہ شاہِ سیبو کو اطلاع ملی کہ اس کے ایک جزیرے پر جنگ ہو رہی ہے۔ اس جزیرے کا نام میکٹن تھا جو وہاں سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ جزیرہ انتہائی خوبصورت تھا لیکن وہاں کے باشندے انتہائی جنگجو تھے۔ میکٹن کے سردار نے شاہِ سیبو کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔
میگلن نے بادشاہ کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ خود جنگ کی کمان سنبھالے گا۔ وہ اپنے تینوں جہازوں کے ساتھ گیا اور علی الصبح میکٹن پہنچ گیا۔ وہاں کے باشندے بالکل تیار تھے۔ ان کی تعداد پندرہ سو تھی جب کہ گوروں کی تعداد محض پچاس۔ خوفناک تصادم ہوا۔ اس لڑائی میں میگلن ہلاک ہو گیا اور اس کے بقیہ آدمی جہازوں پر سوار ہو کر افسردہ دل واپس لوٹ گئے۔ واپسی کے سفر میں ان کے ساتھ ان کا وہ محبوب لیڈر نہیں تھا جو ہر وقت ان کی مدد کے لیے تیار رہتا تھا، ہر ایک کا بہت خیال رکھتا تھا اور ہر ایک کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا تھا۔ اگرچہ میگلن نے خطرناک طوفانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے آبنائے میگلن دریافت کیا اور بحر الکاہل کو پار کیا۔ لیکن دنیا کے گرد چکر لگانے کی خواہش کی تکمیل سے قبل ہی وہ موت کی آغوش میں جا سویا۔ آبنائے میگلن ہمیشہ اس کے نام کو زندہ رکھے گی جو جنوبی امریکہ کے جنوبی سرے اور ٹیرادل فیگو کے درمیان انتہائی خطرناک راستہ ہے۔ آج اس راستے کو پار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن اس وقت کے بارے میں سوچیے جب کوئی ان دشواریوں سے واقف نہیں تھا کہ چٹانیں کہاں کہاں چھپی ہوئی ہیں اور پانی کہاں گہرا ہے۔ راستے سے ناواقف ہونے کے باوجود میگلن نے لکڑی سے بنے ہوئے بادبانی جہازوں کی مدد سے ایسے خطرناک راستے کو پار کیا تھا۔ میگلن کے ساتھیوں نے اس کی موت کے بعد بھی کئی مہمات سر کیں لیکن صرف ایک جہاز ہی اسپین لوٹ سکا۔ جب تین برس کے بعد ان کا جہاز سان لوکر کے ساحل پر پہنچا تو سارے اسپین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اہلِ اسپین کا خیال تھا کہ سارے جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔ اب وہ یہ جان کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ میگلن کا ایک جہاز دنیا کا چکر لگا کر کام یاب لوٹا ہے۔
(مصنّف ای ایف ڈوڈ کی کتاب سے انتخاب، انگریزی سے اس کتاب کو اردو میں غلام نبی مومن نے ترجمہ کیا ہے)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


