The news is by your side.

Advertisement

بس اتنی سی بات سے گھبرا گئے!

بات اس دن یہ ہوئی کہ ہمارا بٹوا گم ہو گیا۔ پریشانی کے عالم میں گھر لوٹ رہے تھے کہ راستے میں آغا صاحب سے ملاقات ہوئی۔

انہوں نے کہا، ’’کچھ کھوئے کھوئے سے نظر آتے ہو۔‘‘

’’بٹوا کھو گیا ہے۔‘‘

’’بس اتنی سی بات سے گھبرا گئے، لو ایک شعر سنو۔‘‘

’’شعر سننے اور سنانے کا یہ کون سا موقع ہے۔‘‘

’’غم غلط ہو جائے گا۔ ذوق کا شعر ہے‘‘ فرماتے ہیں

تو ہی جب پہلو سے اپنے دل ربا جاتا رہا
دل کا پھر کہنا تھا کیا، کیا جاتا رہا، جاتا رہا

’’کہیے پسند آیا؟‘‘

’’دل ربا نہیں پہلو سے بٹوا جاتا رہا ہے‘‘ ہم نے نیا پہلو نکالا۔

پہلو کے مضمون پر امیر مینائی کا شعر بے نظیر ہے

کباب سیخ ہیں ہم کروٹیں سو بدلتے ہیں
جو جل اٹھتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں

ہم نے جھلا کر کہا، ’’توبہ توبہ! آغا صاحب آپ تو بات بات پر شعر سناتے ہیں۔‘‘ کہنے لگے، ’’چلتے چلتے ایک شعر ’توبہ‘ پر بھی سن لیجیے۔‘‘

توبہ کرکے آج پھر پی لی ریاض
کیا کیا کم بخت تُو نے کیا کیا

’’اچھا صاحب اجازت دیجیے۔ پھر کبھی ملاقات ہوگی۔‘‘

’’ملاقات…. ملاقات پر وہ شعر آپ نے سنا ہوگا‘‘

نگاہوں میں ہر بات ہوتی رہی
ادھوری ملاقات ہوتی رہی

’’اچھا شعر ہے لیکن داغ نے جس انداز سے’’ملاقاتوں‘‘ کو باندھا ہے اس کی داد نہیں دی جا سکتی‘‘

راہ پر ان کو لگا لگائے تو ہیں باتوں میں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں

’’بہت خوب۔ اچھا آداب عرض۔‘‘

’’آداب عرض۔‘‘

بڑی مشکل سے آغا صاحب سے جان چھڑائی۔

(معروف مزاح نگار کنہیا لال کپور کے مضمون سے منتخب پارہ)

Comments

یہ بھی پڑھیں