site
stats
صحت

دنیا بھر میں 80 کروڑ افراد غذائی قلت کا شکار

روم: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک و زراعت ایف اے او کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس وقت غذائی بحران جاری ہے اور 19 ممالک شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

اٹلی کے دارالحکومت روم میں ایف اے او کی سالانہ کا نفرنس میں 30 سے زائد ممالک کے سربراہان اور نمائندگان نے شرکت کی۔

کانفرنس میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت سنہ 2030 تک صفر بھوک (زیرو ہنگر) کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے لیے سخت محنت، ترقی اور بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

مزید پڑھیں: کس بچے کو کھانا کھلائیں اور کس کو نہیں؟ صومالی والدین اذیت میں

ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ دنیا بھر میں اس وقت 80 کروڑ سے زائد افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔

اسی طرح دنیا بھر میں 5 سال تک کی عمر کے 15 کروڑ 50 لاکھ بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔

ایف اے او کے مطابق دنیا میں غربت کی شکار آبادی کا 60 فیصد حصہ جنگ زدہ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ممالک میں مقیم ہیں۔ 2 کروڑ افراد یمن، سوڈان، نائجیریا اور صومالیہ میں قحط کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: جنوبی سوڈان قحط زدہ ملک قرار

کانفرنس میں ماہرین کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کی مدد اور امن کے بغیر غربت اور بھوک سے نجات ممکن نہیں۔ لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے ان کے روزگار کو بچانا ہوگا۔

ایف اے او کی یہ 3 جولائی سے شروع ہونے والی کانفرنس 8 جولائی تک جاری رہے گی جس میں دنیا بھر کی غذائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top