منگل, اپریل 14, 2026
اشتہار

فرح خان کا بالی وڈ میں انڈر ورلڈ کے دباؤ سے متعلق انکشافات

اشتہار

حیرت انگیز

ممبئی (14 مارچ 2026): نامور بھارتی کوریوگرافر و فلمساز فرح خان نے بالی وڈ کے اس دور کے بارے میں کھل کر بات کی ہے جسے انڈسٹری کے بہت سے لوگ آج بھی بے چینی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فرح خان نے بتایا کہ کس طرح 90 کی دہائی میں فلم انڈسٹری کو اکثر انڈر ورلڈ کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

کوریوگرافر و فلمساز نے بتایا کہ اس وقت فلموں کے گرد ماحول آج کے مقابلے میں بہت مختلف تھا، خاص طور پر اگر اس کا موازنہ 80 کی دہائی سے کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم ہندی فلموں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، جب ہم کالج میں تھے تو صرف ہالی وڈ فلمیں ہی دیکھا کرتے تھے، ہندی فلموں کا بدترین دور 80 کی دہائی کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہندو تہوار ہولی کی مبینہ توہین پر فرح خان کیخلاف مقدمہ درج

جب انڈر ورلڈ کے اثر و رسوخ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرح خان نے اپنے کیریئر کے آغاز کا ایک لرزہ خیز واقعہ بیان کیا جو یہ ہے:

’یہ 90 کی دہائی کی بات ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں ایک سیٹ پر تھی میں نے ابھی اپنے کیریئر کا آغاز ہی کیا تھا، شاید 93 یا 94 کی بات ہے جب پروڈیوسر مکیش ڈگل کو گولی مار دی گئی تھی۔‘

کوریوگرافر و فلمساز نے کرن جوہر کی پہلی فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے پریمیئر سے جڑا ایک واقعہ بھی بیان کیا۔

’مجھے معلوم ہے کہ فلم ’ڈوپلیکیٹ‘ یا ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے پریمیئر کے دوران کرن جوہر کو انڈر ورلڈ سے دھمکی ملی تھی اور وہ بہت خوفناک صورتحال تھی۔ ہر کوئی اس بحث میں تھا کہ پریمیئر منسوخ کر دینا چاہیے یا ہمیں اسے جاری رکھنا چاہیے۔‘

فرح خان نے بتایا کہ سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی لیکن تناؤ واضح تھا، کرن جوہر بہت زیادہ ذہنی دباؤ میں تھے اور تصور کریں کہ یہ آپ کی پہلی فلم ہو لیکن آپ کے ذہن میں صرف یہی سب چل رہا ہو۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں