The news is by your side.

Advertisement

لاپتہ افراد کمیشن ختم کر کے نیا بااختیار کمیشن بنایا جائے، فرحت اللہ بابر

اسلام آباد : سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے اکثر واپس آجاتے ہیں لیکن اغواء کاروں کا معلوم نہیں چل پاتا جب کہ بازیاب افراد کا بیان ریکارڈ نہ ہونا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے.

سینیٹر فرحت اللہ بابر انسانی حقوق کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں تبادلہ خیال کر رہے تھے انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کمیشن کو ختم کر کے نیا اور بااختیار کمیشن بنایا جائے.

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ لاہور کی خاتون صحافی 2 برس بعد بازیاب ہوئی ہیں لیکن بازیابی کے باوجود پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور نہ ہی ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ عدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی ہے.

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق عدالت نے حکم دیا تھا کہ ہر بازیاب ہونے والے افراد کا بیان ریکارڈ کیا جائے تاکہ حقائق کا پتہ چل سکے اور معلوم چلے کہ انہیں کیوں اغواء کیا گیا اور کہاں رکھا گیا.

سینیٹر فرحت اللہ بابر جو پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہیں کا کہنا تھا کہ خود بخود اچانک واپس آنے والوں کی بازیابی سے متعلق پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے کہ بازیاب افراد کچھ بتاتے نہیں حالانکہ کمیشن واپس آنے والے افراد کا بیان ریکارڈ کرنے کا پابند ہے.

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا کمیشن کام نہیں کرسکتا تو اس کا کیا فائدہ ہے چنانچہ نیا بااختیار کمیشن بنایا جائے جو بازیاب شخص کا انسانی حقوق کمیٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرائے اور یہ بیان ان کیمرہ ریکارڈ کیا جائے جب کہ کمیٹی کے ارکان اس سے متعلق باہر بات نہ کریں.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں