The news is by your side.

Advertisement

مشرف کا بیانیہ خواجہ آصف پیش کررہے ہیں، آخرہماری پالیسی کہاں بنتی ہے؟ فرحت اللہ بابر

اسلام آباد : سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ موجودہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے وہی بیانیہ دیا ہے جو اس سے قبل پرویز مشرف کا تھا۔

وہ سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کر رہے تھے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ڈرون حملے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں جو کہ تشویش ناک امر ہے اس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔

سینیٹرفرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کہتے تھے کہ دہشت گردوں کا پتہ دو ہم انہیں ڈھونڈ نکالیں گے جس کے بعد مطلوب لوگوں کو پکڑ کر دوسرے ملکوں کے حوالے کردیا جاتا تھا۔

اسی طرح موجودہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی کہا کہ امریکا ہمیں دہشت گردوں کے بارے میں تفصیلات دے تو ہم ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کریں گے۔

 اسی سے متعلق : امریکا سپر پاور ہونے کے باوجود افغانستان میں ناکام رہا، خواجہ آصف

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ بعد ازاں وزیر خارجہ نے امریکا سے 75 مطلوب دہشت گردوں کی فہرست ملنے کا تذکرہ بھی کیا تھا جس میں حافظ سعید کا نام شامل نہیں تھا تاہم وہ بعد میں اس بیان سے مکر گئے تھے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس سے پرویز مشرف کے بیانیے اور خواجہ آصف کے بیانات میں مماثلت ثابت ہو جاتی ہے چنانچہ یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ آخر ہماری خارجہ پالیسی کہاں سے بن رہی ہے ؟

 یہ بھی پڑھیں : خواجہ آصف نے خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دے دیا

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپنے گھر کی صفائی کرنی ہوگی کا بیان دیا تھا جس پر وزیر داخلہ کے بیان کو سراہا تھا لیکن اب وزیر خارجہ کے بیان سے ابہام پیدا ہو چلا ہے اور یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمارے پالیسی میکر کون ہیں؟


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں