The news is by your side.

Advertisement

آخر کار کسانوں کے احتجاج نے مودی کو منہ کھولنے پر مجبور کر دیا

نئی دہلی: کسانوں کے احتجاج پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا پہلا عوامی ردِ عمل سامنے آ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کو آخر کار ہوش آ گیا ہے کہ ملک کے کسان ان کی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، یہ ہوش انھیں تب آیا ہے جب مظاہرین نے دارالحکومت دہلی کے لال قلعے پر دھاوا بول کر پرچم لہرایا۔

مودی کا کہنا تھا کہ دہلی میں مظاہرین نے لال قلعے پر دھاوا بول کر ملک کی ’توہین‘ کی ہے، اتوار کو ریڈیو خطاب میں انھیں نہ صرف ترنگے کی توہین نظر آئی بلکہ غم زدہ ملک بھی دکھائی دے گیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں کسان گزشتہ تقریباً 2 ماہ سے ظالمانہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن مودی سرکار کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی تھی، کئی مظاہرین اس دوران دارالحکومت کی سرحد پر خود کشی بھی کر چکے ہیں۔

کسان احتجاج سے خوفزدہ مودی نے پارٹی رہنماؤں کو بڑی تجویز دے دی

مودی نے کہا 26 جنوری کو دہلی میں ترنگے کی توہین سے ملک غم زدہ ہوا، حکومت زراعت کو جدید بنانے کے لیے پُر عزم ہے اور اس سمت میں بہت سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے کاشت کار خسارے میں رہیں گے جب کہ نجی شعبے کو اس سے فائدہ ہوگا۔انڈیا کی ایک ارب 30 کروڑ کی آبادی میں سے نصف تعداد زراعت کے پیشے سے منسلک ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو یوم جمہوریہ پر ہونے والی ٹریکٹر پریڈ کے موقع پر مظاہرین نے تاریخی لال قلعے پر دھاوا بول دیا تھا، ریاستی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں ایک شخص ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں