ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

سچل پولیس نے غلط ایف آئی آر درج کر دی، فارم ہاؤس کے متاثرہ شہری کا الزام

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (10 مئی 2026): شہر قائد میں فارم ہاؤس حملہ اور ڈکیتی کیس میں شہری عبدالرحمان نے الزام لگایا ہے کہ سچل پولیس نے غلط ایف آئی آر درج کر دی ہے، مقدمے میں واقعے کی عکاسی درست نہیں کی گئی ہے۔

مدعی نے الزام لگایا کہ سچل پولیس نے اس کے بیان کی بجائے غلط ایف آئی آر درج کر دی ہے، ایف آئی آر میں پولیس اہلکاروں اور قبضے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ دریں اثنا، ملزمان کی تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق کراچی کے علاقے سچل میں واقع فارم ہاوٴس پر مسلح ملزمان نے دھاوا بول دیا تھا، اس واقعے کا مقدمہ متاثرہ شہری کی مدعیت میں سچل تھانے میں درج کیا گیا ہے، متن کے مطابق 15 سے زائد اسلحے سے لیس افراد دروازہ توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے، اور گارڈز، سپر وائزر اور ان کے اہل خانہ کو یرغمال بنا لیا۔فارم ہاؤس سچل پولیس کراچی

متن کے مطابق ملزمان اسٹاف کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر گاڑی میں اپنے ہمراہ لے کر گئے اور گھومتے رہے، ملزمان نے اسٹاف کو دھمکیاں دے کر چھوڑا اور ہوائی فائرنگ بھی کی، سپر وائزر نے آگاہ کیا تو پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

تاہم دوسری طرف متاثرہ شہری عبدالرحمان نے بتایا کہ اسلحے سے لیس 15 سے زائد ملزمان نے واردات کے دوران 5 لاکھ روپے اور قیمتی سامان لوٹا ہے، اور وہ فارم ہاؤس پر قبضے کی نیت سے آئے تھے، اور مسلح ملزمان کے ساتھ پولیس موبائل بھی موجود تھی۔

فارم ہاؤس سچل پولیس کراچی فارم ہاؤس سچل پولیس کراچی

متاثرہ شہری کے مطابق ملزمان نے فارم ہاؤس میں موجود افراد کو اغوا کیا، کچھ ملزمان فارم ہاؤس پر قابض بھی ہو گئے تھے، اور وہ موبائل سے اپنی تصاویر بھی بناتے رہے۔ عبدالرحمان کے مطابق جب ون فائیو پر کال کی اور پولیس کو لے کر فارم ہاؤس پر پہنچا تو مسلح ملزمان فرار ہو گئے، لیکن بھگدڑ میں ملزمان اپنا فون جائے واردات پر چھوڑ گئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق فارم ہاؤس پر چھوڑے گئے موبائل فون سے ملزمان کی تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اس کیس کی تفتیش جاری ہے۔

+ posts

افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں

اہم ترین

افضل خان
افضل خان
افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں

مزید خبریں