The news is by your side.

Advertisement

کراچی پر کسی آرٹیکل کا حوالہ دو تو سندھ توڑنے کا تاثر دیا جاتا ہے، فروغ نسیم

کراچی: وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں سسٹم اُس انداز سے کام نہیں کررہے جیسے کرنا چاہیے، اگر کراچی پر کسی آرٹیکل کا حوالہ دیا جائے تو سندھ توڑنے کا تاثر دے دیا جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انکم ٹیکس بار ایسو سی ایشن کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ٹیکس ٹریبونل کی تمام تقرریاں چیف جسٹس نے کیں لہذا تمام ملازمین کو غیر جانبداری سے کام کرنا چاہیے، ٹیکس ٹربیونل کےلیےتقرری کاطریقہ تبدیل کیاجارہاہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان جرمنی کوقرض دیتاتھا، اگرکراچی پرکسی آرٹیکل کاحوالہ دیاجائےتوکہاجاتاہےسندھ توڑرہےہیں، اس وقت ملک مشکل حالات ہیں، اس لیے مستقبل میں مزید آسودگی آئے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 80 فیصد معیشت زراعت ہے، کیا زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کے لیے آئین میں ترمیم نہیں ہونا چاہیے؟ وفاق انکم ٹیکس کا بڑا حصہ کراچی سے جمع کرتا ہے، کیا ملک کی 70 فیصد آمدنی پر انکم ٹیکس نہیں ہونا چاہیے؟۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سسٹم اس طرح کام نہیں کررہےجس طرح کیاکرتےتھے، سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں