The news is by your side.

Advertisement

فاروق ستار نائن زیرو پر چھاپے کا الزام عامر خان پر ڈالنا چاہ رہے ہیں، ترجمان ایم کیو ایم پاکستان

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عامر خان نے ذمہ دار کی حیثیت سے کارکنان کی آواز سے آواز ملائی، فاروق ستار نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کا الزام عامر خان پر ڈالنا چاہ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ 23 اگست کے بعد عامر خان کو سینئر ڈپٹی کنوینر منتخب کیا گیا تھا، ان کو سیینئر ڈپٹی کنوینر فاروق ستار کی سربراہی میں منتخب کیا گیا تھا، فاروق ستار جانتے ہیں عامر خان کی واپسی کا پالیسی فیصلہ کس کا تھا۔

متحدہ پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ فیصلے سے پہلے عامر خان سے ملاقات کرنے والے وفد میں فاروق ستار شامل تھے، ایسا تھا تو فاروق ستار 3 سال تک کیوں خاموش رہے؟ پی ایس پی سے کسی قسم کا اتحاد اکثریتی کارکنان کی رائے پر مسترد کیا۔

ترجمان نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرکے تنظیم کو آگے لے جانا ہے، ایم کیو ایم پاکستان اور اس کے اصولوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

تئیس اگست کا فیصلہ فاروق ستار کا تنہا ہوتا تو 5 فروری کو تحریک ساتھ ہوتی، 23 اگست کے فیصلے پر عملدرآمد میں تحریک نے مشترکہ حصہ لیا تھا، خالد مقبول صدیقی، رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو ذمہ داری سنبھالنے کی متعدد پیش کش کی، خالد مقبول صدیقی کو متفقہ تحریک کا کنوینر بنایا تھا اور وہ سربراہی کریں گے۔

مزید پڑھیں: عامرخان نہ ہوں تو رابطہ کمیٹی کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں، فاروق ستار

واضح رہے کہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ عامر خان نہ ہوں تو رابطہ کمیٹی کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں، عامر خان سے پہلے بھی دو مرتبہ لڑائی ہوچکی ہے، ساری رابطہ کمیٹی ایک طرف اور عامر خان ایک طرف ہوتے تھے، پہلے میں دکھاوے کا سربراہ تھا، اب خالد مقبول ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عامر خان جرائم پیشہ افراد کو ٹاؤن اور یوسیز میں لگارہے ہیں، ایسی ایم کیو ایم میں کام نہیں کرسکتا جس میں بدنام زمانہ لوگ شامل ہوں جبکہ کارکنان کہہ رہے ہیں کہ نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ عامر خان نے پڑوایا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں