میڈیا ہاؤسز پر حملے کے کیس میں فاروق ستار کی عبوری ضمانت منظور -
The news is by your side.

Advertisement

میڈیا ہاؤسز پر حملے کے کیس میں فاروق ستار کی عبوری ضمانت منظور

کراچی: اے آر وائی نیوز کے دفتر سمیت دیگر میڈیا ہاؤسز پر حملے اور اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمات میں ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی عبوری ضمانت منظور کرلی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اے آر وائی نیوز کے دفتر سمیت دیگر میڈیا ہاؤسز پر حملے اور اشتعال انگیز تقاریر سمیت 5 مقدمات میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

دوران سماعت عدالت نے برہمی کا اظہار کیا کہ فاروق ستار 9 ماہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

گزشتہ سماعت پر عدالت نے فاروق ستار کی مسلسل غیر حاضری پر وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 2 مقدمات میں ڈھائی لاکھ فی مقدمہ اور دیگر 3 مقدمات میں 50 ہزار فی مقدمہ کے حساب سے زر ضمانت جمع کروانے کا حکم دیا۔

مقدمات کی مزید سماعت 9 جون تک ملتوی کردی گئی۔

بجلی بحران پر چیئرمین نیپرا مستعفی ہوں

ضمانت منظور ہونے کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 31 مقدمات میں ضمانت منظور ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت دیگر شہروں کے میئرز کو اختیارات دینا ہوں گے۔ بلدیاتی اداروں کی کامیابی صوبائی حکومت کی کامیابی ہوگی۔

کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بجلی بحران پر وفاقی وزرا اور چیئرمین نیپرا سے استعفیٰ مانگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات کوئی نہیں مانے گا کہ بجلی کے ٹاورز گر جاتے ہیں۔ گرمی آنے سے پہلے کے الیکٹرک کو مرمتی کام کرلینا چاہیئے تھا۔

یاد رہے کہ 23 اگست کو قائد متحدہ کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد ایم کیو ایم کے مشتعل کارکنان نے اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ کردیا تھا۔

مظاہرین نے دفتر میں شدید توڑ پھوڑ کی، سیکیورٹی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ خواتین سمیت دفتر میں موجود ملازمین کو ہراساں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: اے آر وائی کے دفتر پر حملہ کرنے والے 3 ماسٹر مائنڈ گرفتار

واقعے کے بعد ایم کیو ایم رہنماؤں نے اپنے قائد کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کردیا جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ دو دھڑوں، ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن میں تقسیم ہوگئی۔

حملے میں ملوث متعدد ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ حملہ آوروں میں شامل خواتین کو بھی گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہائی ملی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں