پیسوں کی چمک دھمک مڈل کلاس نمائندگی کومتاثرنہیں کرے گی، فاروق ستار
The news is by your side.

Advertisement

پیسوں کی چمک دھمک مڈل کلاس نمائندگی کومتاثرنہیں کرے گی، فاروق ستار

اسلام آباد : ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ہمیں اختلافات کے باوجود اکٹھا ہوکر رہنا ہے،ووٹ بینک کاحق ادا کرنا ہے، پیسوں کی چمک دھمک مڈل کلاس نمائندگی کومتاثرنہیں کرے گے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی اچھی خبر سینیٹ کےالیکشن ہوناہے، سیاسی جمہوری قوتوں نے انتخاب ہونا یقینی بنایا، ایم کیوایم پاکستان گزشتہ دنوں آزمائش میں تھی، اختلاف تھا، ان اختلافات کے باوجودبات چیت جاری رہی.

سینیٹ انتخابات کے حوالے سے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کےعلاوہ دیگرمعاملات پربھی اتفاق ہواہے، ایک چیز پر اتفاق تھا شہری سندھ کے ووٹ بینک کو متاثرنہیں کرینگے، قومی اسمبلی انتخابات کے لیے ساتھ مل کرٹکٹ دیں گے، پیسوں کی چمک دھمک مڈل کلاس نمائندگی کومتاثرنہیں کرے گی۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ آج ان کی آزمائش ہے،ایم پی ایز سے بات کی ہے اور انہیں سمجھایا ہے، ہمیں اختلافات کے باوجود اکٹھا ہو کر رہنا ہے، ووٹ بینک کا حق ادا کرنا ہے، تنظیمی بحران سے پہلے ہی اپوزیشن سے بات طے کرچکے تھے، کل شام ایک نتیجے پر پہنچنے کے بعد دیگرسیاسی جماعتوں سے بات کی۔


مزید پڑھیں : ہم نہیں چاہتے کہ ایم کیوایم پاکستان تقسیم ہو یا اس کا ووٹ بینک تقسیم ہو، فاروق ستار 


انکا کہنا تھا کہ ارباب غلام رحیم کی معاہدے کی بات کی تصدیق کرتاہوں ، کچھ اراکین نے کہیں ڈنر ضرور کیا تھا لیکن وہ انھیں ہضم نہیں ہوا، فوڈپوائزننگ کے باعث سارا کھایا پیا واپس آگیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ 5مارچ کو دوبارہ بیٹھیں گے تو 25دن کے اختلافات پر جواب لوں گا، سینیٹ کی نشست اصل مسئلہ نہیں ، اختلاف ابھی بھی ہے۔

رابطہ کمیٹی سے اختلافات کے حوالے سے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اچھی بات یہ ہے کہ ہمارارابطہ ہے،اچھےماحول میں بیٹھتےہیں، جواصل بیماری بھی ہےاس کا بھی علاج کرلیں گے میری ضداور انا کسی حوالے سے نہیں ،اس کے پیچھے چھپا مرض سمجھیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایک بے اختیاراور بااختیار سربراہ میں فرق ہی میرا مسئلہ ہے، کوشش کررہے ہیں کہ ہم چاروں سیٹیں نکالیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانےکے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں