The news is by your side.

منحرف اراکین اسمبلی کو فاروق ستار کی نئی پیش کش

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے منحرف اراکین اسمبلی کی پارٹی میں واپسی کے لیے مشروط اجازت رکھ دی، متحدہ پاکستان کے سربراہ نے ہے کہ منحرف اراکین معذرت کر کے واپس آسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد میں رابطہ کمیٹی ، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل اور کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹ انتخابات اور موجودہ سیاسی صورتحال سمیت ایوانِ بالا کے لیے نامزد کیے جانے والے امیدواران کے ناموں پر مشاورت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایم کیو ایم کا مسلم لیگ ن، فنکشنل لیگ اور تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر گرینڈ اپوزیشن بنانے پر اتفاق کیا گیا جب کہ یہ بھی طے پایا کہ پیپلزپارٹی اور پاک سرزمین پارٹی سے کسی سطح پر کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی ندیم راضی پی ایس پی میں شامل

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں منحرف اراکین کو سینیٹ میں ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا گیا جب تمام عہدیداران اس بات پر متفق ہوئے کہ اگر الیکشن کمیشن نے منحرف اراکین کو ایوانِ بالا کے انتخابات تک ڈی سیٹ نہ کیا گیا تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’منحرف اراکین کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ معذرت کر کے پارٹی میں واپس آجائیں‘۔

خیال رہے کہ پاک سرزمین پارٹی میں اب تک ایم کیو ایم کے دو قومی اسمبلی کے اراکین آصف حسنین، سلمان مجاہد جبکہ سندھ اسمبلی کے اراکین ندیم راضی، شیراز وحید، ڈاکٹر صغیر احمد، ارتضیٰ فاروقی، محمود عبدالرزاق میمن، افتخار احمد سمیت دیگر شامل ہیں، علاوہ ازیں ڈپٹی میئر ارشد وہرہ سمیت کئی بلدیاتی نمائندوں نے بھی پی ایس پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی پی ایس پی میں شامل

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے صوبائی و قومی اسمبلی کے منتخب اراکین سمیت ڈپٹی میئر کراچی ارشدہ وہرہ نے گزشتہ برس پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کی تھی جس کے بعد انہوں نے اپنی نشستیں چھوڑنے کا بھی اعلان کیا تھا تاہم بعد میں مصطفیٰ کمال نے کسی بھی رکن اسمبلی کو استعفے نہ دینے کی ہدایت کی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں