اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا انمول عرف پنکی کا معاملہ قومی اسمبلی، سینیٹ اورصوبائی اسمبلی میں اٹھانے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے منشیات مافیا کے خلاف کارروائی میں تاخیر اور سندھ کے شہری مسائل پر حکومت پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 15 سال بعد ایک منشیات فروش کی گرفتاری پر حکومت کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے سوال اٹھایا کہ انمول عرف پنکی جیسی ملزمہ برسوں تک کیسے سرگرم رہی؟
انہوں نے گرفتار ملزمہ کو پروٹوکول دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انصاف کا دوہرا معیار قرار دیا اور کہا کراچی کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی باآسانی دستیابی پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے، صرف پیادوں کو نہیں بلکہ اس مافیا کی سرپرستی کرنے والے بڑے ناموں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ایم کیو ایم اس معاملے کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلی میں بھرپور طریقے سے اٹھائے گی۔
آئندہ بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ اصل آئینی ترمیم وہ ہونی چاہیے جس میں عوام کو ریلیف ملے
۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیس، بجلی اور اشیائے ضروریہ پر ٹیکس کم کیے جائیں اور بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی طور پر بااختیار بنایا جائے۔
سندھ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سندھ کی تقسیم جغرافیائی نہیں بلکہ ناانصافیوں کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے جعلی ڈومیسائل کو شہری نوجوانوں کے حق پر ڈاکہ قرار دیا اور کہا کہ کراچی کی آبادی کم ظاہر کرنا شہر کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


