The news is by your side.

Advertisement

ایک پارٹی کے چار چار سربراہ ہو، تو 2018 کا الیکشن بھول جائیں: فاروق ستار

اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان پی آئی بی گروپ کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ ہمارا مؤقف ایک سربراہ، ایک پالیسی ہے، مگر ایم کیوایم بہادرآباد میں بہت سارے سربراہ ہیں.

ان خیالات کا اظہار انھوں نے الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بہادر آباد والے دوستوں کی درخواستوں کو رد کرتے ہوئے ہمیں ایک دن کی مہلت دی ہے، اب یکم مارچ کو اپنا موقف الیکشن کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ خالد مقبول صدیقی کو دکھانے کے لئے کنوینر بنایا گیا، وہ شریف آدمی ہیں، کہتے ہیں کہ فیصلہ خلاف آئے، تو عدالت نہیں جائیں گے، البتہ عامر خان نے آج صبح کہا تھا کہ فیصلہ حق میں نہ آیا، تو عدالت جائیں گے. فروغ نسیم تو کہہ رہے ہیں کہ آج ہی فاروق ستار کی چھٹی کردی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف ہے ایک سربراہ، ایک پالیسی ہے، بہادرآباد جانے میں مسئلہ یہ ہے کہ وہاں سربراہ کتنے ہیں، چار چارسربراہ ہوں گے، تو 2018 کےالیکشن بھول جائیں.

فاروق ستار سےکوئی ذاتی جھگڑا نہیں‘ خالد مقبول صدیقی

انھوں کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی عزت پیاری ہے، پورا سندھ مجھے کہہ رہا ہے کہ بڑے پن کا مظاہرہ کریں، مگر 2018 کا الیکشن اس رابطہ کمیٹی کے ساتھ نہیں نکال سکتا، رابطہ کمیٹی میں تو پانچ پانچ سربراہ ہیں۔ میرے پاس اصول اور مستقبل کا ویژن ہے ، خالد مقبول کو ایسی سربراہی مبارک، جہاں سرپربھی چار سربراہ ہوں.

نئی رابطہ کمیٹی نے ڈرائنگ روم کمیٹی کو فارغ کر دیا، فاروق ستار

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جو بھی ثالث کارہے، ان کی دل سےعزت کرتاہوں، مایوس نہیں کیا، بہت کوشش کی سماعت اورفیصلہ آج ہی ہوجائے، ہم چاہتے ہیں کہ معاملہ سینیٹ الیکشن سے پہلےحل ہوجائے.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں