صرف راو انور کیخلاف کارروائی سے کچھ نہیں ہوگا، حکومت سندھ کا بھی احتساب ہونا چاہئے
The news is by your side.

Advertisement

صرف راو انور کیخلاف کارروائی سے کچھ نہیں ہوگا، حکومت سندھ کا بھی احتساب ہونا چاہئے ،فاروق ستار

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ صرف راو انور کیخلاف کارروائی سے کچھ نہیں ہوگا، حکومت سندھ کا بھی احتساب ہونا چاہئے، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ کو بھی کٹہرے میں لانا چاییے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نقیب اللہ کے معاملے پر صرف ایک پولیس افیسر کو ہٹانے سے کام نہیں چلے گا پولیس کوٹاسک صوبائی حکومت دیتی ہے، حکومت سندھ کا بھی احتساب ہونا چاہئیے ، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پولیس خدمات دینے والاادارہ ہے فورس نہیں،2بڑے واقعات ہوئے، عوامی نمائندوں کورول نہیں دینگے تو انتظاراورنقیب جیسے واقعات ہونگے عدالت سے پولیس والوں کی تنخواہیں بند کرنے سے کام نہیں ہوگا، وزیرداخلہ کی بھی تنخواہ بندہونی چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن ہوا وہ پولیٹیکلی مینڈیٹ آپریشن تھا، ایک مرتبہ بھی لیڈرآف اپوزیشن یامیئرکوبلاکرمشورہ نہیں کیا گیا، ہم نے خود مطالبہ کیا تاکہ شہرمیں امن قائم ہو، آئین کی بالادستی کو قائم کرنا ہی آئین کی عزت وتکریم ہے۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سےصرف مذمت سےکام نہیں چلےگا، دیگرجماعتوں کودعوت دیتے ہیں کہ آئیں وزیراعلیٰ کا گھیراؤکریں، پولیس آرڈرپاس کریں گواہوں اورججز کے تحفظ کانظام وضع ہو۔

فاروق ستار نے کہا کہ غلط فعل غلط ہے ہرحال میں ایسا کوئی کام نہیں ہوناچاہئےتھا، جعلےمقابلے پہلےواقعات تونہیں ہیں یہ لائسنس کس نےدیاہے؟ صوبائی حکومت خاموش ہےتواس کی خاموشی تائیدسمجھی جائےگی، اس معاملےکی آنرشپ صوبائی حکومت کولینی پڑے گی۔

مقدمات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ مقدمہ جوں کا توں رہتاہے ہمارا بھی وقت ضائع ہوتاہے، سنجیدہ چالان پیش ہی نہیں کیاجارہاہے،مقدمات سیاسی ہیں، ہم یہ سمجھتےہیں اس معاملےکی ذمہ دارصوبائی حکومت ہے، یہ تاثرہورہاہےجیسےہمارےخلاف مقدمات سیاسی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ کراچی میں آپریشن ہوا لیکن مینڈیٹ لینے والوں کونہ بلایاگیا، سیاسی مقدمات صوبائی حکومت کونمٹانےچاہئیں، ہم نےابھی انتقامی مقدمات کاالزام نہیں لگایا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں