The news is by your side.

Advertisement

فاروق ستار کا آئندہ ہفتے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان

اسلام آباد : ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستارنے آئندہ ہفتے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا الیکشن کمیشن کا آج کا فیصلہ سیاہ فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا، اصل مسئلہ بانی ایم کیوایم کے مائنس کا نہیں بلکہ اصل سازش ایم کیوایم کو ختم کرنا ہے، جس پر آج بھی کام ہو رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان پنجاب اور کے پی کے نمائندے میرے ساتھ موجود ہیں، الیکشن کمیشن نے آج ایک اہم فیصلہ دیا ہے ، مولوی تمیزالدین خان کیس کا فیصلہ جسٹس منیر نے دیا تھا، اس طرح اور بہت سے عدالتی فیصلے ہیں جن کی آج تک مثال دی جاتی ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا آج کافیصلہ سیاہ فیصلےکےطور پر یاد رکھاجائے گا ، الیکشن کمیشن کا فیصلہ سیاہ باب میں اضافہ ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرآئینی اور غیر قانونی ہے ، اس پہلے اندرونی جھگڑے پر آج تک کسی الیکشن کمیشن نے فیصلہ نہیں دیا۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ آج اس کا فیصلہ دینا ہی سیاہ عمل ہے، انٹراپارٹی الیکشن پر فیصلہ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہی نہیں ہے، جسٹس(ر)وجیہہ الدین کیس میں بھی فیصلہ نہیں دیا گیا تھا، باقی سب کو عدالت بھیجا اور ہمیں گھر بھیجنے کی تیاری کی گئی ، انتخابی قوانین میں انٹراپارٹی ڈسپیوٹ پر فیصلہ دینے کا اختیار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کا مطلب ہے دال پوری کالی ہے ، الیکشن کمیشن کو کبھی پارٹی کےاندرونی معاملات پر دخل نہیں دیناچاہیئے۔

فاروق ستار نے کہا کہ مجھے 23اگست کو ایم کیوایم بانی کےسامنے کھڑے ہونے کی سزا دی گئی ، مجھے ریاست اور آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزادی گئی، اصل مسئلہ بانی ایم کیوایم کو مائنس کرنے کا نہیں تھا، اصل سازش ایم کیوایم پاکستان کو ختم کرنا ہے، جس پر آج بھی کام ہورہاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس ایم کیوایم پاکستان کو میں نے بچایا اسی پتنگ کو کاٹا جارہا ہے،بہادرآباد والوں کے پاس چھینی گئی پتنگ ہے، ایم کیوایم کی اکثریت بہادرآباد والوں کے ساتھ نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ نے کہا کہ سیاسی طورپر ایم کیوایم کا نام ختم کرنے کی سازش کو آگے بڑھایا گیا ہے،الیکشن میں کچھ سیٹیں پی ٹی آئی اورپی ایس پی کو دینے کی سازش ہورہی ہے، اس سازش کا مقصد ہے کہ مائنس فاروق ستار بھی ہوجائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مائنس فاروق ستارکے بعد پی ایس پی، ایم کیوایم کا وزن برابرہوجائیگا، ایم کیوایم کو ٹوٹنےسےکیوں بچایا اس لئے مجھ سے بدلہ لیاگیا، مجھے لندن سے الگ ہونے کی سزا دی گئی ، کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کوئی بانی سے ہٹ کر پارٹی چلاسکتا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ آج کافیصلہ 9 نومبر کی پریس کانفرنس اور 23 اگست کے فیصلےکی سزا ہے، پہلے بھی کہاتھا مسئلہ ان کا نہیں میری مؤثر سربراہی کا ہے ، الیکشن کمیشن آج کا فیصلہ دینے کی مجازنہیں ہے ، ایم کیوایم بانی کو خیرباد کہا مگر مجھے مستقل الجھائے رکھا گیا، مجھ پرپی ایس پی کے ساتھ معاملات بڑھانے کیلئے دباؤ رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے سے ایم کیوایم پاکستان پر شب خون مارا گیا ہے ، بلدیاتی اختیارات کے لئے مقدمہ لڑ رہا ہوں، سینیٹ میں ہارس ٹر یڈ نگ ،حلقہ بندیوں کےخلاف لڑرہاہوں، مجھے پارٹی کی کھوئی عظمت کو بحال کرنا تھا۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہاکہ فیصلہ خالدمقبول کےصادق سنجرانی کوووٹ دلانےکی پاداش ہے ، ہمیں شارٹ آرڈر بھی نہیں دیا گیا ،کہا گیا ابھی تیار نہیں ، عمران خان جگہ جگہ خطاب کررہےہیں، ہمیں یہاں الجھا دیا گیا، ووٹ بینک کو زبردستی تقسیم کیا جارہا ہے۔

فاروق ستار نے آئندہ ہفتے بڑاجلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں گیا تو امتناع نہیں مانگوں گا، پتنگ خالد مقبول نے چھین لی ہے،خالدمقبول کودعوت دیتاہوں ایک ہفتےمیں انٹر پارٹی الیکشن کراتے ہیں، انٹراپارٹی الیکشن میں دیکھتے ہیں کس کو ووٹ پڑتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کہیں اور جانے والا نہیں ہوں جہاں سیاست کی ہے وہی رہوں گا ، میرا غصہ کنٹرول ہے،نواز شریف کا غصہ کنٹرول میں نہیں، اس میں میرا نقصان نہیں بلکہ ایم کیوایم لندن مضبوط ہوگی، اس فیصلے کا مزہ آنے والے دنوں میں سب چکھے گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ اس فیصلے سے لندن اور دبئی والوں کو فائدہ ہوگا ، فیصلے سے کراچی اور سندھ کےشہر یوں کا نقصان ہوگا ، کیا آپ فیصلےکےبعدالیکشن کمیشن سے شفاف انتخابات کی توقع رکھتے ہیں، 2018 کے الیکشن میں وہ ہونے جارہا ہے، جو سینیٹ الیکشن میں ہوا۔


مزید پڑھیں: فاروق ستارایم کیوایم پاکستان کےکنوینر نہیں رہے‘ الیکشن کمیشن


یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے ایم کیوایم پاکستان کی کنوینرشپ سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے خالد مقبول صدیقی،کنور نوید جمیل کی درخواست منظورکرلی اور فاروق ستار کو کنوینر شپ سے ہٹادیا۔

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کے انٹراپارٹی الیکشن کوکالعدم قراردیا جبکہ جنرل ورکرز اسمبلی کی قرارداد کو بھی مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ خالدمقبول صدیقی،کنورنوید جمیل نے فاروق ستارکےخلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی تھی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سربراہی کے معاملے پر فاروق ستار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دائرہ اختیار چیلنج کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں