The news is by your side.

Advertisement

عامرخان نہ ہوں تو رابطہ کمیٹی کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں، فاروق ستار

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ رابطہ کمیٹی قبول پر عامر خان قبول نہیں ، عامرخان نہ ہوں تورابطہ کمیٹی کیساتھ کام کرنے کو تیار ہوں۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے عامر خان کے ساتھ اختلافات سب کے سامنے بیان کردیے اور کہا کہ عامر خان نہ ہوں تو رابطہ کمیٹی کے ساتھ کام کرنے کو تیارہوں۔

فاروق ستار نے انکشاف کیا کہ عامر خان سے پہلے بھی دو مرتبہ لڑائی ہوچکی ہے، ساری رابطہ کمیٹی ایک طرف اورعامرخان ایک طرف ہوتےتھے، پہلےمیں دکھاوے کاسربراہ تھا اب خالد مقبول ہیں، حقیقت میں عامرخان سب چلارہے ہیں۔

فاروق ستار نے الزام عائد کیا کہ عامر خان جرائم میں ملوث افراد کو ٹاؤن اور یوسیز میں لگا رہے ہیں، ایسی ایم کیو ایم میں کام نہیں کر سکتا جس میں بدنام زمانہ لوگ ہوں۔

یاد رہے اس سے قبل بھی ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا تھا  کہ خالد مقبول صدیقی  بااختیار نہیں نمائشی سربراہ ہیں۔


مزید پڑھیں : خالد مقبول صدیقی بااختیار نہیں، نمائشی سربراہ ہیں، فاروق ستار


یاد رہے کہ سینیٹ انتخابات میں ڈپٹی کنوینئر کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی، ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کی قیادت خالد مقبول صدیقی، فیصل سبزواری اور کنور نوید جمیل کر رہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم پی آئی بی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ہیں۔

رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ سینیٹ ٹکٹ پر پارٹی کیلئے خدمات دینے والوں کاحق ہے، جس کے بعد ایم کیوایم کی پوری قیادت فاروق ستار کے فیصلے کےخلاف ہوگئی، رابطہ کمیٹی کی اکثریت نے پی آئی بی جانے سے انکار کردیا تھا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بات صرف کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کی نہیں ہے بلکہ عامرخان گروپ پوری پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، عامر خان ایک بار پھر حقیقی ٹو بنانا چاہتے ہیں۔

بعد ازاں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اختیارات اور اس کو تحلیل کرتے ہوئے نئے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

انٹراپارٹی الیکشن میں فاروق ستار نے 9 ہزار433 ووٹ لے کر ایک بار پھر پارٹی سربراہ کا عہدہ سنبھال لیاتھا۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات کے باعث پارٹی کے اراکین پیپلز پارٹی اور پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں