The news is by your side.

Advertisement

بجلی بحران، فاروق ستار کا وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ جب تک عوام اپنے حقوق نہیں مانگیں گے بجلی اور پانی نہیں ملے گا، بجلی بحران حل نہ ہوا تو کے الیکٹرک کے دفتر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، فاروق ستار نے کہا ہے کہ احتجاج میں موجود مٹکے دکھانے کے لیے نہیں بلکہ پھوڑنے کے لیے ہیں، کے الیکٹرک نے کراچی کے عوام سے 60 ارب روپے اضافی لیے، 60 ارب نہ ملے تو 72 گھنٹے بعد کراچی کے عوام خود کے الیکٹرک تک مارچ کریں گے۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ بجلی اور پانی کی فراہمی کا نظام کراچی کے عوام کو دیا جائے، کرسی کسی کی بھی ہو کرسی کے پائے کراچی والوں کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں، شہباز شریف لالی پاپ دیں گے کراچی والے بہل جائیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے، کراچی کے عوام شہباز شریف کے لالی پاپ میں آنے والے نہیں ہیں، شہباز شریف کو یہاں آنے سے پہلے یہ مسئلہ حل کرنا چاہئے تھا۔

فاروق ستار نے کہا کہ شہباز شریف صاحب پانی آنے کی بات کرتے ہو یا دل جلانے کی بات کرتے ہو، ہم نے چار دن سے منہ نہیں دھویا تم نہانے کی بات کرتے ہو، وفاق کو 2500 ارب میں سے 1500 ارب کراچی دیتا ہے پھر بھی کراچی اندھیرے میں ہے پھر بھی کراچی پیاسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا احتجاج کے الیکٹرک کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہے، یہ احتجاج سندھ حکومت اور وفاق کی مجرمانہ غفلت کے خلاف ہے، حیدرآباد، سکھر اور نواب شاہ میں بھی بجلی اور پانی کی قلت کا مصنوعی بحران ہے، پانی فراہم نہ کرکے سندھ کے شہروں کو کیوں کربلا بنایا جارہا ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ نجی اور سرکاری ادارے کے بیچ کراچی کے عوام کو کیوں تنگ کیا جارہا ہے، کل کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کے دفاتر پر جاکر احتجاج کریں گے، عوام غصے میں ہیں تو ہم کب تک انہیں صبر کی تلقین کریں گے، ہم کب تک کراچی کے عوام کے غصے کو قابو کرسکیں گے۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ کراچی کے عوام ایک ایک یونٹ کا بل ادا کرتے ہیں، کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کراچی کے عوام کو جواب دہ ہیں، سندھ حکومت اور وفاق کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کے مسئلے کو حل کیا جائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں