site
stats
پاکستان

فاروق ستار کی اسمبلیوں سے استعفوں کی دھمکی

farooq sattar

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ دباؤ کی صورتحال میں وفاداری تبدیل کرنے کا عمل ختم نہ کیا گیا تو ہم صوبائی، قومی اور سینیٹ سے استعفیٰ دے کر سیاسی عمل سے علیحدہ ہوجائیں گے۔

ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وفاداری کی تبدیلی کا عمل ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے، آج ہم نے پھر اپنے ایم این ایز ،ایم پی ایز سے پوچھا ہے اگر دباؤ ہے تو دل کھول کر حقائق بیان کریں۔

فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے اراکین اسمبلی کو واضح پیغام دیا کہ اگر کسی کو پارٹی پالیسی سے اختلاف ہے تو مستعفیٰ ہوجائے تاہم اگر کہیں سے وفاداری تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو ہمیں آگاہ کریں ہر بڑے فورم اور دنیا کے سامنے آواز اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے آج سینیٹرز، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ لکھوا لیے ہیں، آئندہ اگر ہمارے لوگوں پر دباؤ ڈالا گیا تو بیک وقت تمام ایوانوں سے مستعفیٰ ہوجائیں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کروا کے ہمیں وفاق سے باہر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، دوسری پارٹیوں میں جانے والے نمائندوں نے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیے اور وہ تاحال تنخواہیں حاصل کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کسی کی جاگیر نہیں، کوئی نہیں نکال سکتا، سلمان مجاہد

اُن کا مزید کہنا تھاکہ سینیٹ سے شہری سندھ کی ایک نشست چھین کر پیپلزپارٹی کو دینے کی سازش کی جارہی ہے جس سے ہم بروقت پردہ اٹھا رہے ہیں، ایوانوں سے استعفوں کا اثر براہ راست مارچ میں ہوگا کیونکہ اُس وقت سینیٹ کے انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے الزام ہے کہ مقتدر حلقے اراکین اسمبلی کو دباؤ میں لاکر پی ایس پی میں شمولیت کروارہے ہیں جبکہ مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ متحدہ کے متعدد اراکین اسمبلی اُن سے رابطے میں ہے۔

پی ایس پی ذرائع کے مطابق دسمبر میں متحدہ کے مزید صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین مصطفیٰ کمال کی جماعت میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں، حال ہی میں متحدہ کے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ نے پارٹی لیڈر شپ پر الزام عائد کیا کہ فاروق ستار سمیت دیگر رہنماء پی ایس پی قیادت سے مستقل رابطے میں ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top