The news is by your side.

Advertisement

شہری علاقوں کے ساتھ دھاندلی کی جا رہی ہے، فاروق ستار کاخط

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ دیہات میں ہر جھونپڑی، جھگی اور کشتی تک پر الگ الگ نمبر درج کیا جا رہا ہے جب کہ شہری علاقوں میں فلیٹس اور تجارتی مراکز والی عمارتوں پر ہر فلور کے بجائے پوری عمارت کو ایک ہی نمبر دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے چیف کمشنر شماریات آصف باجوہ کو خط لکھا ہے جس میں کراچی میں جاری مردم شماری میں کوتاہیوں اور کمزوریوں سے آگاہ کرتے ہوئے صاف اور شفاف مردم شماری کی ضرورت پر ذور دیا گیا ہے۔

سربراہ ایم کیو ایم نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ شہری علاقوں میں مردم شماری کے بلاک، چارج اور سرکل میں دانستہ کمی کی جا رہی ہے جب کہ فارم نمبر1 کے کالم نمبر 2 میں ہے کہ ہر اسٹریکچر پر الگ نمبر ڈالا جائےگا لیکن فلیٹس وتجارتی مراکز والی عمارتوں سے متعلق ایک نمبر ڈالا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اسٹریکچرکی بنیاد پر بلاک بنائےگئے تو بلاک کی تعداد بہت کم رہ جائے گی اور ایساکرنےسےمردم شماری کی شفافیت کاعمل مشکوک ہورہاہے۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا خط میں تحریر کیا ہے کہ مردم شماری کرنےوالاعملہ اپنےکام میں پینسل کااستعمال کررہا ہے جس پر تشویش ہو رہی ہے لہذا اس عمل کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے بال پین کا استعمال کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر عمارت میں جتنے فلور اور پورشن ہوں ان پر علیحدہ نمبر دیا جائے اور مردم شماری کے عملے کو پینسل کے بجائے بال پین استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے تا کہ مردم شماری کسی بھی شک و شبہ سے بالا تر ہو۔

دوسری جانب ادارہ شماریات نے مردم شماری کے لیے پرانے اعداد و شمار پیش کردیئے اور 2008 اور 2009 کے نقشے فراہم کردیئے جس کے تحت 2008 کے بعد ہونے والی چائنا کٹنگ کی وجہ سے ندی نالے اب آبادیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں اور پارک، میدان، اسکول اور فٹ پاتھ بھی چائنا کٹنگ کی بدولت آبادیوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

اسی طرح چند برسوں میں چھوٹی عمارتیں کثیر المنزلہ عمارتوں میں بدل گئے ہیں اور محکمہ شماریات کے ریکارڈ میں ایسے فلیٹس کم منازل کے طور پر شامل ہیں جب کہ غیر قانونی رہائشی اور تجارتی اسکیمیں بھی نقشوں میں موجود نہیں اگر ان مقامات کا اندراج نہ کیا گیا تو لاکھوں کی آبادی کا فرق آئے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں