The news is by your side.

Advertisement

سابق فاسٹ بولر نے بولنگ کوچ بننے کی خواہش ظاہر کردی

کرکٹ کے میدانوں میں اپنی ریورس سوئنگ سے حریف بلے بازوں کو پویلین بھیجنے والے عمر گل نے اپنے کیریئر سے متعلق اہم انکشافات کئے ہیں۔

سابق فاسٹ بولر عمر گل اے آر وائی نیوز نے اسپورٹس پروگرام’ باؤنسر’ میں خصوصی شرکت کی اور بتایا کہ مجھے غصہ جلدی آتا ہے مگر کوشش کرتا ہوں کہ جلد ہی اس پر قابو پاؤ، اگر میں غلطی پر ہوں تو پہل کرتے ہوئے معاملے کو رفع دفع کرتا ہوں۔

عمر گل جب ایک کھلاڑی ہوتا تھا تو کوچ اس کے نظر میں کیا اہمیت رکھتا تھا؟ میزبان شعیب جٹ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر عمر گل نے کہا کہ میرے کیریئر میں کچھ کوچز ایسے آئے جو آ کے مددگار ہوتے تھے، جن میں سر فہرست آنجہانی ‘باب وولمر’ ہیں، ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جبکہ کچھ کوچز ایسے آئے جو اپنے فیصلے مسلط کرتے تھے۔

فاسٹ بولر عمر گل نے سابق بولنگ کوچ وقار یونس سے متعلق کہا کہ وقار بھائی جب بولنگ کوچ بنے تو وہ بولرز سے یہی توقع کرتے تھے کہ جس طرح انہوں نے کرکٹ کے میدانوں پر پرفارمنس دی اسی طرح لڑکے بھی دیں، عمر گل کا کہنا تھا کہ آپ کسی سے توقع تو رکھ سکتے ہیں مگر سو فیصد کارکردگی کا یقین نہیں رکھ سکتے۔

پروگرام کے میزبان نے عمر گل سے استفسار کیا کہ نیٹ میں وقار یونس زیادہ بولنگ کراتے تھے یا میدان کے زیادہ چکر لگواتے تھے؟ جس پر عمر گل نے جواب دیا کہ دو ہزار گیارہ میں وقار بھائی کی سخت ٹریننگ کے باعث کئی کھلاڑیوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

سابق فاسٹ بولر نے کہا میرا کرکٹ کیریئر ختم ہوچکا ہے، اب میں پوری طرح کوچنگ کے لئے تیار ہوں، قومی خدمت کے لئے کسی بھی لیول کی کوچنگ کے لئے پوری طرح تیار ہوں۔

عمر گل نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے ٹاپ فائیو بلے بازوں کو پویلین بھیجنا میرے لئے اعزاز کی بات تھی، ڈیبیو ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی کے باعث مسلسل دو سال کرکٹ کھیلی جس کے باعث انجری کا شکار ہوا۔

سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ بطور بولر ہمیں اس بات کا ادراک کرنا پڑتا ہے کہ جسم کو کس طرح فٹ رکھا جائے؟ اور ردھم بھی نہ ٹوٹنے پائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں