The news is by your side.

Advertisement

ملیریا کی تشخیص کا جلد اور آسان طریقہ تلاش کرنے کی کوشش

کم پالا: یوگینڈا سے تعلق رکھنے والا شہری ملیریا کی جلد تشخیص کا آسان طریقہ دریافت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہے اور اُسے یقین ہے کہ جلد وہ کامیابی حاصل کرلے گا۔

تفصیلات کے مطابق ملیریا کے مرض کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں چار لاکھ سے زیادہ افراد کی اموات ہوتی ہیں، اس بیماری سے سب سے زیادہ افریقی ملک متاثر ہیں۔

عام طور پر ملیریا کی تشخیص اور علاج کی سہولیات موجود ہیں مگر یوگینڈا میں طبی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اسی باعث انہیں اپنی بیماری کا بروقت علم نہیں ہوتا۔

ملیریا کی تشخیص کے لیے خون کے نمونے حاصل کر کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، اس کے لیے لیبارٹری یا اسپتال جانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر اب سافٹ ویئر انجینئر آسان طریقہ تلاش کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی ادارہ صحت کی ملیریا سے بچاؤ کی دنیا کی پہلی ویکسین کی آزمائش

برائن گیتا نامی نوجوان خود بھی ملیریا کی بیماری سے متاثر ہوچکا اور اسی دوران اُس نے مرض کی جلد تشخیص کرنے کے حوالے سے کوئی ایپ ایجاد کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

برائن کا کہنا ہے کہ اب مریض کو خون ٹیسٹ کرانے یا ڈاکٹرز کو اسے مائیکرو اسکوپ وغیرہ میں دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہر مریض اپنا علاج خود کرسکے گا اور اس کا نتیجہ موبائل فون پر دیکھ سکے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ جلد ایسی ڈیوائس متعارف کرادی جائے گی جو موبائل سے جڑی ہوگی اور یہ بلڈ سیلز سمیت ساری چیزوں کے حوالے سے آگاہی دے گی، اگر کسی شخص کو ملیریا ہوگا تو وہ اپنی آنکھوں سے خود بھی دیکھ سکے گا۔

یوگینڈا کے نیشنل ملیریا مینیجر ڈاکٹر جمی کا کہنا تھا کہ ’’گیتا نے جو باتیں کیں وہ آسان نہیں بلکہ ہمیں متعدد چلینجز کا سامنا ہے، نوجوان دل جمعی کے ساتھ کام کررہا ہے اور اُس نے ایک ایسی مشین (انگولا) تیار کی جو ففتھ ورژن ڈیوائس ہے، اسے ہم نے آزمائش کے لیے مختلف اسپتالوں میں رکھ دیا ہے تاکہ نتائج کو دیکھ سکیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: ملیریا سے بچاؤ

اُن کا کہنا تھا کہ نوجوان پرامید ہے کہ آئندہ برس تک یہ مشین مارکیٹ میں متعارف کرادی جائے گی، مگر مجھے ایسی کوئی امید نہیں کیونکہ یہ بہت مشکل کام ہے، البتہ ڈیوائس پر کام جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں