site
stats
اے آر وائی خصوصی

روزے کے جسمانی فوائد

ماہ صیام کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ مہینہ روحانی تسکین ہی نہیں کئی طبی مسائل کا حل بھی ہے۔ طبی ماہرین اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ مذہبی عبادت کے ساتھ ساتھ یہ جسمانی فوائد بھی پہنچاتا ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ روزہ کن کن طبی مسائل کا حل ہے اور اس سے کیا کیا جسمانی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق روزہ کولیسٹرول، بلڈ پریشر، موٹاپے اور معدہ و جگر کے کئی امراض پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

روزہ نظام ہضم کو ایک ماہ کے لیے آرام مہیا کرتا ہے۔ اس کا حیران کن اثر جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر کھانا ہضم کرنے کے علاوہ 15 مزید فعال بھی سر انجام دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی سست ہوجاتی ہے۔

روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے جس سے دل کو آرام ملتا ہے۔ دل حالت نیند اور بے ہوشی میں بھی اپنا کام سر انجام دیتا ہے اور مسلسل جسم کو خون فراہم کرتا ہے۔

خلیوں کے درمیان مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل سست ہو جاتا ہے۔

روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسمانی طور پر کمزور افراد روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتے ہیں۔

انسانی جسم ایک مشین کی طرح ہے جو خود کار انداز میں اپنے کام سرانجام دیتا رہتا ہے۔ لیکن جس طرح مشین کو مسلسل کام کرنے کے بعد آرام کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ہمارے جسمانی اعضا کو بھی ان کے کام سے فرصت کی ضرورت ہوتی ہے اور رمضان میں یہ کام بخوبی سر انجام پاتا ہے۔ ایک مہینے آرام کے بعد ہمارا جسم پھر سے پورے سال کام کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top