The news is by your side.

Advertisement

قومی اسمبلی میں فاٹا کے انضمام سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور

منظور شدہ بل سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد بل پر صدر مملکت دستخط کریں گے

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں فاٹا کے انضمام سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور کرلی گئی، بل کی حمایت میں 229 جب کہ مخالفت میں ایک ووٹ آیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل کی تمام نو شقوں کی منظوری دی گئی، جس کے بعد فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہو جائے گا۔

قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد بل پر صدر مملکت دستخط کریں گے، اور بل قانونی حیثیت اختیار کر جائے گا جب کہ فاٹا قانونی طور پر کے پی کا حصہ بن جائے گا۔

قبل ازیں اکتسویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کے سلسلے میں پہلی رائے شماری دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی، رائے شماری میں 229 ووٹ حق میں اور 11 مخالفت میں آئے۔

فاٹا کے انضمام سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے متن کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستیں 342 سے کم ہو کر 336 رہ جائیں گی جب کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں 21 نشستیں ملیں گی۔

بل کے مطابق عام نشستیں 16، خواتین کی 4، غیر مسلم کی ایک نشست ہوگی، جب کہ فاٹا کی موجودہ قومی اسمبلی کی نشستیں 2018 الیکشن میں برقرار رہیں گی۔ متن میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کے ایک سال بعد فاٹا کی اضافی نشستوں پر الیکشن ہوں گے۔

دوسری طرف قومی اسمبلی میں کورم پورا نہ ہونے کے سبب بل پیش کرنے کا عمل تاخیر سے شروع ہوا، جس کے باعث وزیراعظم کی نیوز کانفرنس منسوخ کی گئی، وزیراعظم نے ڈھائی بجے پی ایم آفس میں نیوز کانفرنس کرنا تھی۔

ایوان میں موجود پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی میں فاٹا کے انضمام کا بل پیش، پی میپ کی مخالفت، جے یوئی آئی ف کا واک آؤٹ


دریں اثنا تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ رقم ہوگئی، فاٹا کےعوام کو ان کاحق مل گیا، قبائلی عوام زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کےعوام کو قومی دھارے میں شمولیت مبارک ہو، یہ نوازشریف کے ایک اور وعدے کی تکمیل ہے، پاکستان زندہ باد۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں