The news is by your side.

Advertisement

قومی اسمبلی میں فاٹا کے انضمام کا بل پیش، پی میپ کی مخالفت، جے یوئی آئی ف کا واک آؤٹ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں فاٹا کےانضمام کے سلسلے میں اکتسویں آئین کی ترمیم کا بل بشیر محمود ورک نے پیش کردیا، جمعیت علمائے اسلام ف کا ایوان سے واک آؤٹ، پی میپ نے مخالفت کردی۔

قبل ازیں قومی اسمبلی میں فاٹا بل پیش کیے جانے کا عمل تاخیر کا شکار رہا، بل کی منظوری کے لیے 228 ارکان کی ضرورت تھی جب کہ قومی اسمبلی میں 200 ارکان موجود تھے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مطلوبہ اراکین پورے کرنے کے لیے وقت مانگ لیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اراکین پورے ہوجائیں تو بل پیش کر دیں گے، فاٹا بل سب کا متفقہ ہے صرف اپوزیشن یا حکومت کا نہیں۔

قومی اسمبلی میں فاٹا بل تاخیر کے بعد پیش کردیا گیا، بل پیش ہوتے ہی جے یو آئی فضل الرحمان نے مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور پی ٹی آئی کے منحرف رکن داوڑ کنڈی نے بھی مخالفت کی۔

مہمند ایجنسی سے منتخب ممبر قومی اسمبلی ملک بلال رحمان نے کہا کہ فاٹا کو صوبے کا درجہ دیا جائے، ہم نے انضمام نہیں اصلاحات مانگی تھیں۔ پی میپ کے عبد القہار ودان نے کہا کہ فاٹا کا بل متنازع ہے، یہ بل ہمیں منظور نہیں۔ جمال الدین نے کہا کہ فاٹا پر کوئی نظام مسلط کیا گیا تو برداشت نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فاٹا کوخیبرپختونخوا میں ضم کرنےکا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے کے موقع پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فضل الرحمان اور اچکزئی نے فاٹا مسئلے کا حل نہیں نکالنے دیا، دونوں حضرات کی وجہ سے فاٹا کےعوام کو حقوق نہیں ملے۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے الزام لگایا کہ فاٹا بل پرحکومت کی سنجیدگی نظرنہیں آرہی، حکومتی وزرا ایوان میں موجود ہی نہیں جب کہ اپوزیشن موجود ہے، کابینہ ہوتی تو وزیراعظم کی عزت افزائی ہوتی، اگر یہی صورت حال ہے تو بل کو اگلی اسمبلی پر چھوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فاٹا سے متعلق تاریخی بل ہے، ڈیڑھ سوسال کی تاریخ بدل رہی ہے۔

دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے ملک میں مزید انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم فاٹا بل کی حمایت کریں گے لیکن فاٹا ارکان کی اکثریت بل کی مخالفت کر رہی ہے، میں خوش ہوں فاٹا کا مسئلہ حل ہو رہا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں