The news is by your side.

Advertisement

خیبرپختونخواہ: فاٹا انضمام کا بل ایوان سے منظور، جے یو آئی ایف کے مظاہرے کی مذمت

پشاور: خیبرپختونخواہ اسمبلی میں فاٹا انضمام کا بل کثرت رائے سے منظور ہوگیا جبکہ اراکین اسمبلی نے جمعیت علماء اسلام ف کے اسمبلی پر دھاوے اور  مظاہرے کی شدید الفاظ میں مذمت کردی۔

اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا کہنا ہے کہ فاٹا کا انضمام ہمارا اپنا مسئلہ ہے، اس معاملے پر افغانستان کی جانب سے احتجاج بلاجواز ہے اسی طرح محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان نے اس اقدام کی مخالفت میں بول رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھاکہ  مولانا فضل الرحمان اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں اگر انہیں انضمام کے حوالے سے کوئی اختلاف ہے تو ہم اُسے دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام نے فاٹا انضمام کی مخالفت کر کے جمہوری اقدار کی نفی کی، قبائلی عوام کو اُن کے بنیادی حقوق دینا ناانصافی نہیں بلکہ اس اقدام کے بعد وہ قومی دھارے میں شامل ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں: فاٹا بل کے خلاف جے یو آئی ف کا احتجاج، اسمبلی پر دھاوا بول دیا

اُن کا مزید کہنا تھا کہ  پوراملک فاٹاانضمام پرخوش ہے مگرصرف جےیوآئی کو اس پر تکلیف ہے، اگر جمہوری طریقہ اپناتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کو احتجاج کرنے کی ضرورت پیش آئی تو وہ ایوان میں آواز اٹھاتے، اسمبلی پر دھاوا اور پرتشدد مظاہرہ سمجھ سے بالا تر ہے۔

واضح رہے کہ جے یو آئی فضل الرحمان گروپ نے خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضمام کے عمل میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی اور کے پی اسمبلی کے باہر شدید احتجاج کیا۔

جمعیت علماء اسلام کے مشتعل کارکنان نے فاٹا کے انضمام کے خلاف نعرے بازی کی اور  اسمبلی کے اندر داخل ہونے کے لیے مرکزی دروازے پر چڑھے تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن بھی طلب کی جس کے بعد مشتعل کارکنان نے پتھراؤ شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس فائر کیے جبکہ پتھراؤ سے دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

بعد ازاں جے یو آئی کے کارکنان منتشر ہونے کے بعد اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرقانون امتیاز شاہد نے بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا، 92 اراکین نے حمایت جبکہ 7 نے مخالفت میں ووٹ دیے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں