The news is by your side.

Advertisement

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس، پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ ہوگا

پیرس : فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس پیرس میں جاری ہے، اجلاس میں پاکستان کی گرے لسٹ میں شمولیت کا جائزہ لیا جائے گا، پاکستانی حکام آج اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس چوبیس جون سے شروع ہوا اجلاس چھ دن تک جاری ہے، چھ روزہ اجلاس میں پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان کا اعلی سطحی وفد اجلاس میں شرکت کرے گا جبکہ پاکستان آج 27 صفحات پر مبنی اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔

ذرائع کےمطابق اجلاس میں پاکستان نے اپنے دفاع کے لئے تیاری کرلی، پاکستان نے گرے لسٹ سے بچنے کیلئے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی کئے ہیں، جن کی تفصیلات سے ٹاسک فورس کو آگاہ کیا جائےگا۔

ایف اے ٹی ایف اجلاس میں دہشتگردی اورمنی لانڈرنگ کیخلاف نافذ کردہ قوانین اور آٹھ خصوصی سفارشات پرغور ہوگا۔

نگران وزیر خزانہ شمشاد اخترکا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی کو روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک، دیگر بینکوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید بہتر کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کا گرئے لسٹ میں شامل ہونا ملکی معشیت کیلئے نقصان دہ ہے۔


مزید پڑھیں : پاکستان کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے کوشش تیز، عالمی اداروں سے تعاون کا فیصلہ


زرائع کے مطابق جولائی میں ایف اے ٹی ایف کے وفد کی پاکستان آمد متوقع ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان سال 2012 سے 2015 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل تھا، ذرائع کے مطابق جولائی میں ایف اے ٹی ایف کے وفد کی پاکستان آمد متوقع ہے

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ اجلاس میں پاکستان کے تین رکنی وفد نے 27 صفحات پر مشتمل اینٹی منی لانڈرنگ اوراینٹی ٹیرر فناسنگ اقدامات پرمبنی رپورٹ پیش کی تھی، سابقہ دور حکومت میں پیش کی جانے والی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یاد رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں