شبہ تھا بیٹا کسی کالعدم تنظیم سے وابستہ ہے، والد عبد الکریم سروش -abdul-kareem-sarosh
The news is by your side.

Advertisement

شبہ تھا کہ بیٹا کسی کالعدم تنظیم سے وابستہ ہے، والد عبد الکریم سروش

کراچی : فرار دہشت گرد عبدالکریم سروش رات بھر جاگتا اور کئی ہفتوں گھر سے غائب رہا کرتا تھا جس کے دوران وہ افغانستان میں مقیم رہا اور پولیس مخالف نظریات رکھتا تھا۔ 

ان باتوں کا انکشاف فرار دہشت گرد عبد الکریم کے والد سجاد صدیقی نے پولیس کے سامنے دورانِ تفتیش کیا انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل ہمارے علم میں آیا کہ میرے بیٹے کے پاس اسلحہ بھی موجود ہے اور وہ اپنی گمشدگی کے دوران افغانستان گیا تھا جہاں سے ٓنے کے بعد اس میں کافی تبدیلیاں آئیں۔

دہشت گردعبد الکریم سروش صدیقی کے والد سجاد صدیقی نے کہا کہ عبدالکریم رات بھرجاگتا رہتا تھا اورکئی مہینوں سے اُس کی حرکتیں بھی مشکوک تھیں اکثر گھر سے غائب رہتا اور پوچھنے پر تسلی بخش جواب نہیں دیتا جس سے شبہ ہوا کہ بیٹے کا کسی کالعدم تنظیم سے وابستگی ہے۔


 خواجہ اظہار قاتلانہ حملے کا مرکزی ملزم سروش سے متعلق اہم معلومات* 


انہوں نے عید کے تیسرے روز چھاپے کے دوران ہونے والے پولیس مقابلے کے بارے میں بتایا کہ حسان کی ہلاکت اور شناخت کے بعد سے عبدالکریم سروش مسلسل جاگتا رہتا تھا شاید اسے اپنی گرفتاری کا یقین ہوگیا تھا چنانچہ جب عید کے تیسرے روز پولیس ہمارے گھر چھاپہ مارنے آئی تو عبدالکریم جاگ رہا تھا اور اس نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے چھاپہ مارا تومیں نےعبدالکریم کو ہتھیارچلانے سے روکا اور پولیس کے سامنے ہتھیارڈالنے کا کہا توبیٹے نے گرفتاری دینے سے انکارکردیا اور فرار ہوگیا۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے عبدالکریم سروش کے والد کا کہنا تھا کہ عید کے روز کے وقوعے کے بعد حسان کی تصاویر میڈیا پر آئیں تو اسے فورآ ہی پہچان لیا، یہ عبدالکریم سے ملنے ہمارے گھر آتا رہتا تھا۔


 خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مرکزی ملزم کے گھر چھاپا


والد سجاد صدیقی نے انکشاف کیا کہ عبدالکریم سروش پولیس کا بہت مخالف تھا اور یہی وجہ ہے کہ جب ہماری گاڑی چوری ہوئی تو وہ اس سلسلے میں جب بھی تھانے جاتا تو وہاں پولیس والوں سے بات بہ بات الجھتا رہتا تھا جس سے ہمیں اس کے خیالات کا تھورا تھوڑا اندازہ ہونا شروع ہوا۔

یاد رہے عید کے تیسرے روز پولیس نے خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے دوران ہلاک ہونے والے حسان سے حاصل معلومات کی بنیاد پر عبدالکریم سروش کے گھر چھاپا مارا تھا تاہم ملزم پولیس پارٹی پر فائرنگ کر کے زخمی حالت میں فرار ہو گیا تھا تاہم پولیس نے اس کے والد سجاد صدیقی سمیت 6 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں