دکھ یہ ہے کہ والد کو انصاف نہیں ملا‘ فاطمہ بھٹو -
The news is by your side.

Advertisement

دکھ یہ ہے کہ والد کو انصاف نہیں ملا‘ فاطمہ بھٹو

کراچی: میرمرتضیٰ بھٹو کی21 ویں برسی کے موقع پر ا ن کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو نے انسٹا گرام پر اپنے والد کی تصویر کے ہمراہ پیغام شیئر کیا ہے‘ کہتی ہیں کہ دکھ یہ ہے کہ انصاف نہیں ملا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کی21 ویں برسی آج بروز بدھ کو منائی جا رہی ہے‘ وہ 42سال کی عمر میں20 ستمبر1996 کو کراچی میں اپنے گھر کے قریب فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے ۔

برسی کے سلسلہ میں مرحوم کی بیوہ غنویٰ بھٹواور پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کے زیر اہتمام لاڑکانہ سمیت ملک بھر میں تعزیتی تقریبات انعقاد پذیر ہوں گی اور مرحوم کی روح کو ایصال ثواب پہنچانے کے لئے فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیاجائے گا۔

میرمرتضی بھٹو‘ کچھ یادیں کچھ باتیں*

سوشل میڈیا پر شیئر کردہ پیغام میں فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ ’’ اکیس سال قبل میرے والد کو ہمارے گھر کے سامنے قتل کیا گیا۔ ہمیں ان کی عدم موجودگی کا صدمہ اٹھائے اکیس سال گزر گئے اور ساتھ ہی یہ ہمیں یہ دکھ بھی سہنا پڑا کہ انہیں اور ان کے ساتھ قتل ہونے والے ساتھیوں کو انصاف نہیں ملا۔ لیکن ان تمام عرصے میں‘ میں جب بھی ان کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرے تصور میں ان کا ہنسات مسکراتا چہرہ ہی آتا ہے‘‘۔

پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو کے بڑےبیٹے میر مرتضی بھٹو 18ستمبر 1954کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں ہی حاصل کی پھر ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کم عمری ہی میں سیاست کے میدان میں آگئے ۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے دوران مير مرتضی ٰ بھٹو جلا وطن رہ کر اپنے والد کی رہائی اور پھانسی کی سزا رکوانےکے لیے کوششیں کرتے رہے۔ ان پر الذو الفقار نامی تنظیم بنانےاور 1981 ميں پشاور سے کابل جانے والے پی آئی اے کے طیارے کو ہائی جیک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

میر مرتضی بھٹو کو 20ستمبر 1996 کو کراچی میں ایک جلسے سے شرکت کے بعد ستر کلفٹن واپسی پر گھر کے قریب ہی مورچہ بند پولیس اہلکاروں نے ان کے چھ ساتھیوں سمیت گولیوں سے چھلنی کردیا اوروہ خالق حقیقی سے جاملے۔ انہیں لاڑکانہ میں گڑھی خدا بخش کے آبائی قبرستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے احاطے میں دفن کیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں