جمعرات, اگست 20, 2026
اشتہار

جب ایمان دریاؤں کے دفاع میں کھڑا ہو!

اشتہار

حیرت انگیز

بعض اوقات کوئی مذہبی فتویٰ یا حکم محض دینی اور فقہی دائرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اجتماعی اخلاقیات کی ایک مضبوط آواز بن جاتا ہے۔ عراق کے دریاؤں میں غیر صاف شدہ سیوریج، طبی فضلہ، صنعتی کچرا اور زہریلے کیمیائی مادے پھینکنے کو حرام قرار دینے کا آیت اللہ العظمیٰ علی الحسینی سیستانی کا حالیہ فتویٰ بھی ایسا ہی ایک تاریخی اقدام ہے۔ بظاہر یہ کسی مخصوص ماحولیاتی مسئلے سے متعلق ایک مذہبی حکم دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی اہمیت کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان جدید معاشروں کو درپیش سنگین ترین مسائل کے حل کی ایک مؤثر قوت بن سکتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ماحولیاتی تباہی عوامی صحت، معاشی استحکام اور پوری قوموں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے، آیت اللہ سیستانی نے واضح کیا ہے کہ اکیسویں صدی میں روشن خیال مذہبی قیادت کا کردار کیا ہونا چاہیے۔

کئی دہائیوں سے مسلم دنیا میں مذہبی گفتگو کا بڑا حصہ ایسے موضوعات کے گرد گھومتا رہا ہے جو تنازعات تو پیدا کرتے ہیں، مگر عام انسان کی روزمرہ زندگی اور معمولات میں بہتری لانے میں ان کا کردار محدود رہتا ہے۔ فرقہ وارانہ اختلافات، مسلکی کشمکش اور سیاسی بحثوں پر توانائی صرف کی جاتی رہی ہے، مگر آلودہ پانی، زہریلی فضا، جنگلات کی کٹائی، کچرے کی تلفی کے ناقص انتظامات، جہالت، بدعنوانی اور غربت جیسے مسائل جو براہِ راست لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، شاذ و نادر ہی اس شدت کے ساتھ مذہبی اور اخلاقی توجہ حاصل کر سکے ہیں۔ آیت اللہ سیستانی کی مداخلت نے اس گفتگو کا رخ بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ماحولیاتی تباہی کو مذہبی اور اخلاقی خلاف ورزی قرار دے کر انہوں نے اہلِ ایمان کو یاد دلایا ہے کہ اسلام محض عبادات، رسومات اور فقہی جزئیات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک جامع اخلاقی نظام ہے، جس کی بنیاد انصاف، ذمہ داری اور انسانوں سمیت پوری کائنات کی فلاح پر قائم ہے۔

قرآنِ مجید انسان کو زمین پر خلیفہ اور نگہبان قرار دیتا ہے۔ نگہبانی اور ملکیت میں بنیادی فرق ہے۔ نگہبانی کا تصور ذمہ داری، جواب دہی اور امانت کا تقاضا کرتا ہے۔ انسان کو فطرت کے بے لگام استحصال کا اختیار نہیں دیا گیا بلکہ اسے زمین اور اس کے وسائل کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس تناظر میں آبادیوں کی زندگی برقرار رکھنے والے دریاؤں کو زہر آلود کرنا، منافع کی خاطر قدرتی نظام تباہ کرنا اور آنے والی نسلوں کی زندگی خطرے میں ڈالنا محض ماحولیاتی جرائم نہیں رہتے بلکہ ایک مقدس امانت میں خیانت بن جاتے ہیں۔ یہ تصور اسلامی تعلیمات میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید بار بار زمین میں فساد اور تباہی پھیلانے کی مذمت کرتا ہے۔

آلودگی، ماحولیاتی تنزلی اور قدرتی وسائل کا بے رحمانہ استحصال صرف تکنیکی اور انتظامی ناکامیاں نہیں بلکہ اس گہرے اخلاقی عدم توازن کی علامتیں ہیں جو آج انسانی معاشروں میں پیدا ہو چکا ہے۔ اس لیے ماحول کی نگہبانی کوئی درآمد شدہ جدید تصور نہیں، جسے زبردستی مذہب سے جوڑ دیا گیا ہو؛ یہ خود اسلامی اخلاقیات کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔

آیت اللہ سیستانی کے حکم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے مذہبی ذمہ داری کے اس پہلو کو دوبارہ زندہ کیا ہے جو طویل عرصے سے نظرانداز ہوتا آیا ہے۔ تاریخی طور پر منبر صرف مذہبی تعلیم دینے کی جگہ نہیں تھا بلکہ اجتماعی اخلاق، سماجی ذمہ داری اور عوامی شعور کی تربیت کا ایک اہم ادارہ بھی تھا۔ مذہبی قیادت اپنی بہترین صورت میں معاشرے کو انصاف، رحم، صفائی، عوامی بہبود اور اجتماعی بھلائی کی طرف رہنمائی کرتی تھی۔ سب سے زیادہ احترام ان علما کو حاصل ہوتا تھا جو محض نظری اور تجریدی اختلافات میں الجھنے کے بجائے معاشرے کو درپیش عملی مسائل پر توجہ دیتے تھے۔

آیت اللہ سیستانی کا یہ فتویٰ اسی روشن روایت کی توسیع ہے۔ انہوں نے کسی نئے مسلکی اختلاف پر فیصلہ صادر کرنے کے بجائے اپنے عظیم اخلاقی اور مذہبی اثر و رسوخ کو ایک ایسے مسئلے کے لیے استعمال کیا ہے جو ہر عراقی شہری کو متاثر کرتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی فرقے، نسل یا سیاسی جماعت سے ہو۔ آلودہ پانی کسی فرقہ میں تمیز نہیں کرتا۔ زہریلا فضلہ کسی مذہبی یا مسلکی سرحد کو تسلیم نہیں کرتا۔ ماحولیاتی تباہی ایک مشترکہ خطرہ ہے، جس کا مقابلہ بھی اجتماعی طور پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

اس حکم کا شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ محض اخلاقی نصیحت تک محدود نہیں بلکہ جواب دہی کے اصول کو بھی سامنے لاتا ہے۔ آیت اللہ سیستانی نے واضح کیا ہے کہ دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کرنے والے افراد عوامی صحت اور ماحول کو شدید نقصان پہنچانے کے باعث گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ انہیں اپنے پیدا کردہ نقصان کی قانونی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑ سکتی ہے۔

یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے۔ ماحولیاتی تباہی کو اکثر ترقی کا ناگزیر نتیجہ یا انتظامی غفلت کا معمولی ضمنی اثر سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ آیت اللہ سیستانی کا یہ بیان اس بے حسی کو مسترد کرتا ہے۔ ماحولیاتی نقصان کو اخلاقی جرم اور قانونی ذمہ داری دونوں سے جوڑ کر انہوں نے اس اصول کی توثیق کی ہے جس کی پوری مسلم دنیا کو فوری ضرورت ہے: آلودگی کے ذریعے انسانی آبادیوں کی صحت اور فلاح کو خطرے میں ڈالنے والوں کو نہ صرف اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے بلکہ قانون کے کٹہرے میں بھی لایا جانا چاہیے۔ اسی وجہ سے اس حکم کی اہمیت عراق کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ پوری مسلم دنیا میں ماحول کی تباہی تشویش ناک حدوں تک پہنچ چکی ہے۔ جن دریاؤں نے کبھی عظیم تہذیبوں کو جنم دیا تھا، آج ان میں سیوریج اور صنعتی فضلہ بہایا جا رہا ہے۔ شہر خطرناک فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔ جنگلات سکڑ رہے ہیں، حیاتیاتی تنوع ختم ہو رہا ہے اور پلاسٹک کا فضلہ دنیا کے دور دراز قدرتی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی خطے میں سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور پانی کی قلت کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

بحران کی اس شدت کے باوجود ماحولیاتی اخلاقیات کو آج بھی مرکزی مذہبی گفتگو میں خاطر خواہ جگہ حاصل نہیں۔ یہ غفلت اس لیے زیادہ حیران کن ہے کہ قرآنِ مجید زمین میں فساد، وسائل کے ضیاع اور حد سے تجاوز کرنے کی بار بار ممانعت کرتا ہے: ”اے اولادِ آدم! … کھاؤ اور پیو، مگر حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ (سورۃالاعراف، 7:31)

ماحول کی حفاظت کوئی ثانوی یا غیر متعلقہ معاملہ نہیں بلکہ اسلامی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ معاصر مذہبی گفتگو میں اس موضوع سے صرفِ‌ نظر کرنا خاص طور پر اس لیے تشویش ناک ہے کہ ماحولیاتی تحفظ ان چند مسائل میں سے ایک ہے جو سیاست، فرقہ واریت اور نظریاتی اختلافات سے تقسیم شدہ معاشروں کو متحد کر سکتا ہے۔ صاف پانی، تازہ ہوا سب کی مشترکہ ضرورت ہے اور محفوظ محلّوں اور صحت مند قدرتی نظام سے ہر بچّے کو یکساں فائدہ پہنچتا ہے۔

پاکستان اس امر کی ایک نمایاں مثال ہے کہ یہ گفتگو کیوں ضروری ہے۔ پاکستان کو جو قدرتی وسائل عطا ہوئے ہیں، ان میں قراقرم اور ہمالیہ کے گلیشیئرز سے لے کر دریائے سندھ کے زرخیز میدانوں تک، سندھ کے تمر کے جنگلات سے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑی علاقوں تک، ملک کا ہر قدرتی ورثہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ پورا ماحولیاتی سرمایہ مسلسل دباؤ میں ہے۔

دریاؤں اور نہروں میں غیر صاف شدہ صنعتی اور بلدیاتی فضلہ معمول کے مطابق شامل کیا جا رہا ہے۔ پلاسٹک کی آلودگی ہر جگہ پھیل چکی ہے۔ غیر قانونی طور پر کچرا پھینکنا، خطرناک طبی فضلے کی ناقص تلفی، جنگلات میں کمی اور گاڑیوں و صنعتوں سے نکلنے والا بے قابو دھواں ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہیں، جبکہ بڑے شہروں میں فضائی آلودگی عوامی صحت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر رہی ہے۔ ان مسائل کو عموماً تکنیکی یا انتظامی ناکامی قرار دیا جاتا ہے اور بلاشبہ یہ انتظامی ناکامیاں بھی ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ اخلاقی شکست بھی ہے۔ جو معاشرہ جان بوجھ کر اپنے آبی وسائل کو آلودہ کرتا ہے، قدرتی خزانے تباہ کرتا ہے اور اس تباہی کا بوجھ آنے والی نسلوں پر ڈال دیتا ہے، وہ صرف اپنے طرزِ حکمرانی میں ناکام نہیں ہوتا بلکہ اخلاقی طور پر بھی وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی قیادت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ تصور کیجیے کہ پاکستان بھر میں جمعے کے خطبات میں ماحول کے تحفظ کو دینی ذمہ داری کے طور پر باقاعدگی سے بیان کیا جائے۔ نمازیوں کو بتایا جائے کہ دریاؤں اور ندی نالوں میں کچرا پھینکنا، پانی ضائع کرنا، کھلے عام کچرا جلانا، درخت کاٹنا اور عوامی مقامات کو آلودہ کرنا صرف شہری قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی سطح پر بھی ایک جرم ہے۔ اگر مدارس کے نصاب میں ماحول کی نگہبانی کو اسلامی اخلاقیات کے لازمی جزو کی حیثیت سے شامل کر لیا جائے تو عوامی شعور پر اس کے نہایت گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

قانون سازی اور ضابطے یقیناً ضروری ہیں، لیکن صرف قوانین انسانی رویوں کو ہمیشہ تبدیل نہیں کر سکتے۔ مذہبی اداروں کے پاس ایک ایسی طاقت موجود ہے جو اکثر حکومتوں کو میسر نہیں ہوتی، وہ انسانی اقدار کی تشکیل، روزمرہ عادات میں تبدیلی اور ضمیر کو براہِ راست مخاطب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ منبر سے دیا جانے والا پیغام دلوں پر وہ اثر ڈال سکتا ہے جو سرکاری احکامات اور دفتری ہدایات شاذ و نادر ہی پیدا کر پاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آیت اللہ سیستانی کی مثال بہت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ مذہبی اختیار کو محض نظریاتی اور فقہی مباحث تک محدود نہیں‌ رکھا جاسکتا بلکہ وہ عہدِ حاضر کے بنیادی مسائل کے حل میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔ دریاؤں کی حفاظت، عوامی صحت کا تحفظ اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو محفوظ بنانا مذہب کے اخلاقی مقصد کا عملی اظہار ہیں۔

مسلم دنیا کو اس نوعیت کے مزید مذہبی مباحث اور ایسی تعلیمات کی ضرورت ہے۔ مسلم معاشروں میں علما اب بھی وسیع اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ان کے الفاظ عوامی رویوں، عادات اور ترجیحات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ اثر و رسوخ دراصل ایک امانت ہے۔ جب اسے تعلیم، عوامی صحت، ماحولیاتی ذمہ داری، دیانت، سماجی انصاف اور پْرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مذہب اور معاشرہ دونوں مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہی قوت لامتناہی مناظروں اور تقسیم پیدا کرنے والے تنازعات میں صرف ہو جائے تو بامعنی سماجی اصلاح کے بے شمار مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔

ماحولیاتی بحران مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ سیلاب آبادیوں کو مسلسل تباہ کر رہے ہیں۔ پانی کی قلت کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے۔ فضائی آلودگی سے انسانی عمریں گھٹ رہی ہیں اور صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت روزگار، زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ مسائل ہر مسلمان کو متاثر کرتے ہیں، خواہ اس کا تعلق کسی بھی نسل، قوم یا سیاسی و مذہبی نظریے اور فکر سے ہو۔

ماحولیاتی تحفظ کو دینی ذمہ داری تسلیم کرنا ان تقسیم انگیز بیانیوں کا ایک طاقتور متبادل فراہم کرتا ہے جو ہماری اجتماعی گفتگو پر حاوی رہتے ہیں۔ یہ لوگوں کی توجہ مسلسل اختلاف اور محاذ آرائی سے ہٹا کر مشترکہ ذمہ داری کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ ہمارے اندر خدمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ اہلِ ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ ایمان کی پیمائش صرف عبادات سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ انسان خدا کی تخلیق کے ساتھ وہ کیسا سلوک کرتا ہے۔

پاکستان اور پوری مسلم دنیا کے علما اور مذہبی قیادت کے سامنے آج ایک غیر معمولی موقع موجود ہے۔ وہ اسلامی روایت کے ایک نظر انداز کردہ مگر نہایت حقیقی پہلو کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔ وہ یہ تعلیم عام کر سکتے ہیں کہ لگایا جانے والا ہر درخت صدقۂ جاریہ ہے، محفوظ کیا جانے والا ہر دریا ایک امانت کی ادائیگی ہے، صاف رکھا جانے والا ہر محلّہ شہری نیکی کا اظہار ہے اور فطرت کی حفاظت کے لیے کی جانے والی ہر کوشش خالق کے حضور اظہارِ تشکر ہے۔

دنیا کی بعض قدیم ترین تہذیبوں کو پروان چڑھانے والے دریا اس سے کہیں بہتر سلوک کے مستحق ہیں کہ انہیں گندے نالوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ انسانوں کے سپرد کی گئی زمین غفلت اور تباہی سے کہیں بہتر سلوک کی حق دار ہے۔ آنے والی نسلیں بھی اس تباہ کردہ ماحولیاتی ورثے سے بہتر مستقبل کی مستحق ہیں جو ہم آج ان کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔ اگر جدید دور میں مذہبی قیادت اپنے احترام اور اثر کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے صرف مذہبی رسومات ہی نہیں بلکہ ایمان کے مختلف درجات سے جڑی ہوئی ذمہ داریوں پر بھی بات کرنا ہوگی۔ اسے اہلِ ایمان کو یاد دلانا ہوگا کہ خدا سے عقیدت اور اس کی تخلیق کی حفاظت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

آیت اللہ سیستانی کی اس فکر اور غیر معمولی حکم کو محض ایک ماحولیاتی مسئلے کی نشان دہی نہیں کہا جاسکتا بلکہ انہوں نے ایسا تصورِ ایمان پیش کیا ہے جو معاشرے کی حقیقی ضروریات سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان اور پوری مسلم دنیا کے لیے اس کی اہمیت شاید آج سے پہلے کبھی اتنی زیادہ نہیں تھی۔

اہم ترین

مزید خبریں